وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان برکس میں شامل ہو کر مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنا چاہتا ہے، جب کہ حکومت اقتصادی سفارتکاری کے فروغ، تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے پرعزم ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان مضبوط علاقائی رابطہ کاری، پائیدار سرمایہ کاری اور نئے مالیاتی و تجارتی نظاموں کی تشکیل پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں متبادل ادائیگی نظام ناگزیر ہو چکا ہے اور پاکستان اس سمت عملی پیش رفت پر غور کر رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آذربائیجان اور روسی میڈیا کو دیے گئے انٹرویوز میں ڈیجیٹل معیشت، فِن ٹیک، مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی میں نارتھ ساؤتھ تعاون کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے میں نئے تجارتی اور ٹرانسپورٹ کوریڈورز کے قیام سے معاشی روابط مضبوط ہوں گے اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر خزانہ نے پاکستان اور روس کے درمیان توانائی، معدنیات اور ممکنہ اسٹیل پلانٹ کے قیام سے متعلق جاری مذاکرات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے معاشی استحکام بنیادی شرط ہے، جس کے حصول کے لیے حکومت سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
محمد اورنگزیب نے ڈیجیٹل کرنسی اور کرپٹو سیکٹر کو ضابطے میں لانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام پر کام جاری ہے تاکہ جدید مالیاتی نظام کو محفوظ اور مؤثر بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت زراعت، صحت اور مالیات کے شعبوں میں انقلاب لا سکتی ہے اور فری لانسرز کے لیے اے آئی کے استعمال سے آمدن اور پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی اقتصادی دھارے میں مؤثر شمولیت کے لیے اصلاحات، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور علاقائی تعاون کو اپنی معاشی حکمت عملی کا مرکزی ستون بنا رہا ہے۔






