اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران دو ایسے اہم مواقع آئے ہیں جنہوں نے پاکستان کی ساکھ، وقار اور قومی عزت کو عالمی سطح پر مزید مستحکم کیا، ایک جانب انڈیا کے ساتھ کشیدگی کے دوران پاکستان نے اپنے دفاع کا بھرپور مظاہرہ کیا، جبکہ دوسری جانب حالیہ سفارتی پیش رفت میں بھی پاکستان نے ذمہ دار اور مثبت کردار ادا کرکے عالمی برادری کی توجہ حاصل کی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ان کامیابیوں کا سہرا پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو جاتا ہے، جنہوں نے انتہائی دانشمندی، تدبر اور دور اندیشی کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھایا، ایسے حالات میں جہاں مسائل کے حل کی امید کم دکھائی دیتی تھی، قومی قیادت نے مؤثر حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ناممکن دکھائی دینے والے معاملات کو ممکن بنا دیا۔
خواجہ آصف نے پاکستان کی مسلح افواج، عسکری قیادت، فیلڈ مارشل، وزیراعظم اور متعلقہ حکومتی ٹیم کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کو ان شخصیات کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے قومی مفادات کے تحفظ اور ملک کے وقار کو بلند رکھنے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز کے باوجود قومی اداروں نے ثابت کیا کہ ملک اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، حالیہ کامیابیاں قومی اتحاد، مضبوط قیادت اور مؤثر حکمت عملی کا نتیجہ ہیں۔
وزیر دفاع نے انڈیا کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا اور ہر سطح پر قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے حریف کے مقابلے میں بھی کامیابی حاصل کی اور دنیا کو اپنی صلاحیتوں کا قائل کیا۔
مزید پڑھیں: حافظ نعیم الرحمان سے محسن نقوی کی ملاقات: امریکا ایران معاہدے کا کریڈٹ پاکستان کو جاتا ہے۔
خواجہ آصف نے بین الاقوامی سفارتی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج عالمی سطح پر ہونے والی اہم پیش رفت میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا جا رہا ہے، بعض عناصر اگرچہ پاکستان کے کردار کا کھل کر اعتراف نہیں کرتے، تاہم عالمی برادری ملک کی مثبت سفارتی کوششوں سے بخوبی آگاہ ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان مستقبل میں بھی خطے میں امن، استحکام اور سفارت کاری کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا اور قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اپنی مثبت شناخت کو مزید مضبوط بنائے گا۔







