وزارتِ خارجہ کے مطابق کمرہ عدالت میں سفیر کی موجودگی ویانا کنونشن 1961ء کی کھلی خلاف ورزی ہے، خصوصاً آرٹیکل 41 کی، جو سفارتی حکام کو میزبان ملک کے قوانین کا احترام کرنے اور اس کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کا پابند بناتا ہے۔
دفتر خارجہ نے اس اقدام کو نامناسب اور مداخلت پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ پاکستان نے ناروے کی بعض این جی اوز پر بھی اعتراض اٹھایا ہے جو انسانی حقوق کے نام پر کام کرتی ہیں لیکن پاکستان کے مطابق وہ پاکستان مخالف عناصر کی حمایت میں سرگرم ہیں۔
🔊PR No.3️⃣7️⃣3️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣5️⃣
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) December 11, 2025
Statement by the Spokesperson
🔗⬇️https://t.co/sULOquDLwY pic.twitter.com/Mw60y0GIrQ
مزید کہا گیا کہ ناروے کے سفیر کا عدالت میں موجود ہونا عدالتی عمل پر اثرانداز ہونے کی کوشش ہے، جو بین الاقوامی قانون اور سفارتی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے داخلی امور میں کسی بھی بیرونی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔






