تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کی جانب سے جمعرات کو جاری بیان میں کہا گیا کہ 22 اپریل 2025 کو پہلگام میں ہونے والے حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر سیاح شامل تھے۔
بیان کے مطابق نئی دہلی نے بغیر کسی ثبوت کے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جسے پاکستان نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
حملے کی پہلی برسی کے موقع پر ایک بار پھر انڈیا میں بعض حلقوں کی جانب سے پاکستان کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوششیں کی گئیں، جس پر ردعمل دیتے ہوئے دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے سنجیدہ سفارتی کوششیں کر رہا ہے، تاہم انڈیا ایک بار پھر بے بنیاد الزامات اور پروپیگنڈے کا سہارا لے رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ جاری علاقائی بحران کے دوران انڈیا تنگ نظر داخلی سیاسی مفادات کے لیے پاکستان کے خلاف جھوٹے بیانیے کو ہتھیار بنا رہا ہے۔
دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ گزشتہ سال مئی 2025 میں ہونے والی کشیدگی اور آپریشن بنیان مرصوص کے تناظر میں انڈیا کی مہم جوئی کو مؤثر جواب دیا جا چکا ہے اور ایسے الزامات خطے میں بداعتمادی کو فروغ دینے کی ایک اور کوشش ہیں۔
🔊PR No.1️⃣0️⃣5️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) April 23, 2026
Pakistan Rejects India’s Propaganda, Calls for Responsible Conduct
🔗⬇️ pic.twitter.com/GSIc3gxbUf
بیان میں زور دیا گیا کہ اس قسم کی پروپیگنڈا مہمات عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی اور کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت سے محروم رکھنے جیسے بنیادی مسائل سے نہیں ہٹا سکتیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق انڈیا کی اشتعال انگیز بیان بازی، بار بار کی جارحانہ کارروائیاں اور سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے جیسے یکطرفہ اقدامات علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔
پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انڈیا کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے اور ایسے اقدامات سے باز رہنے پر آمادہ کرے جو خطے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ پہلگام حملے کے بعد انڈیا نے پاکستان کے خلاف متعدد سخت اقدامات کیے تھے، جن میں سندھ طاس معاہدے کی معطلی بھی شامل تھی، جب کہ پاکستان نے جواباً دوطرفہ تجارت معطل، انڈین پروازوں کے لیے فضائی حدود بند اور واہگہ بارڈر بند کر دیا تھا۔
بعد ازاں 6 مئی کو انڈیا کی جانب سے فضائی حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا، جس کے جواب میں پاکستان نے بھی کارروائی کی۔ صورتحال اس وقت کم ہوئی جب 10 مئی کو بین الاقوامی مداخلت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی طے پائی۔






