سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کے مطابق لاہور، اسلام آباد اور کراچی سے خلیجی ممالک کے لیے بعض روٹس پر فلائٹ آپریشن جزوی طور پر بحال کر دیا گیا ہے، جب کہ سعودی عرب کے لیے پروازیں مکمل طور پر اور دبئی کے لیے جزوی طور پر بحال کی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ خلیج میں جاری علاقائی کشیدگی کے باعث پاکستان کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں سے بڑی تعداد میں پروازیں منسوخ ہوئیں۔ 28 فروری سے متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور قطر سمیت خلیجی ممالک کے لیے 570 سے زائد پروازیں منسوخ کی گئیں۔
متاثر ہونے والی ایئر لائنز میں ایمریٹس، اتحاد ایئرویز، ایئر عربیہ، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز، ایئر بلیو، فلائی دبئی اور قطر ایئرویز شامل ہیں۔
بدھ کو نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت نے ایران اور دیگر خلیجی ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کی مدد کے لیے جامع اقدامات کیے ہیں۔
ان کے مطابق واپس آنے والے پاکستانی شہریوں کی سہولت کے لیے خصوصی سہولت کاری ڈیسک قائم کیے گئے ہیں۔ ابوظہبی میں پاکستان کا سفارت خانہ اور جدہ اور دبئی میں قونصل خانے پاکستانی شہریوں کی مدد کر رہے ہیں، جب کہ تہران، زاہدان اور مشہد میں بھی اسی نوعیت کے انتظامات کیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق کئی خلیجی ممالک میں فضائی حدود کی بندش اور دیگر رکاوٹوں کے باعث پاکستان کو اندازاً 20 ارب روپے کی آمدنی میں کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کا پاکستان سے پیٹرول اور ڈیزل فوری مہنگا کرنے کا مطالبہ
دوسری جانب عالمی سطح پر بھی اس بحران نے فضائی سفر کو شدید متاثر کیا ہے۔ حکومتوں اور ایئر لائنز کی جانب سے خطے میں پھنسے مسافروں کو نکالنے کے لیے خصوصی پروازوں کے انتظامات کے باوجود دنیا بھر میں 13 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں۔
ہوابازی کے تجزیاتی ادارے سیریم کے مطابق خطے میں روزانہ پروازوں میں تقریباً نو لاکھ نشستیں دستیاب ہوتی ہیں، جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ متاثر ہونے والے مسافروں کی تعداد پہلے ہی 10 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔






