اقوام متحدہ کی رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کا یہ دعویٰ قابلِ اعتبار نہیں کہ افغانستان میں کوئی دہشت گرد گروہ موجود نہیں۔
رپورٹ کے مطابق افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی کی کارروائیاں پاکستان کے لیے اس وقت سب سے بڑا اور فوری سکیورٹی چیلنج بن چکی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2025 کے دوران پاکستان میں ٹی ٹی پی کی جانب سے 600 سے زائد حملوں کا اندازہ لگایا گیا ہے، تاہم پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ان میں سے متعدد حملوں کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنایا۔
اقوام متحدہ کے مطابق ٹی ٹی پی نے اپنی حکمت عملی میں توسیع کرتے ہوئے پاکستانی ریاستی اہداف کے ساتھ ساتھ چینی منصوبوں کو بھی نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے، جس سے علاقائی سکیورٹی خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ داعش خراسان (آئی ایس آئی ایل-کے) کو دبایا گیا ہے، تاہم اس کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ داعش خراسان افغانستان کے اندر اور باہر بدستور ایک سنگین سکیورٹی خطرہ بنی ہوئی ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس میں پاکستانی اداروں کی جانب سے داعش کے اہم عناصر کی گرفتاریوں کو نوٹ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2023 کے بعد افغان باشندوں کی واپسی سے افغانستان کی معیشت اور بنیادی سہولیات پر دباؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کے باعث افغانستان کو خطے میں عدم استحکام کا منبع سمجھا جا رہا ہے، جس کے براہِ راست اثرات پاکستان کی داخلی سکیورٹی پر پڑ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں متعدد بین الاقوامی دہشت گرد گروہ فعال ہیں، جو علاقائی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا فرنٹ لائن ملک ہے، جب کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس خطے کے امن و استحکام کی راہ میں بنیادی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔






