فراڈ میں ملوث ریلوے افسران اور نجی کمپنیوں کے خلاف ابتدائی تحقیقات تو کی گئیں تاہم وہ مکمل نہ ہو سکیں، جس کے بعد یہ تمام کیسز قومی احتساب بیورو (نیب) کے حوالے کر دیے گئے۔

نجی نشریاتی ادارے ایکسپریس نیوز کے مطابق نیب نے وزارتِ ریلوے کی جانب سے موصول ہونے والے فراڈ کے ریکارڈ پر باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یہ کیسز وزیرِ ریلوے حنیف عباسی کی منظوری کے بعد نیب کو بھجوائے گئے۔

قومی احتساب بیورو کے ذرائع کے مطابق پاکستان ریلویز کی جانب سے باقاعدہ درخواست اور ریکارڈ موصول ہونے کے بعد نیب نے ان معاملات کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی وفاقی وزیرِ ریلوے حنیف عباسی نے نیب کی ان تحقیقات میں معاونت اور مشاورت کے لیے ایک ہائی پروفائل کمیٹی بھی قائم کر دی ہے، جو نیب کو انکوائری کے دوران ضروری دستاویزات، معلومات، قانونی اور تکنیکی معاونت فراہم کرے گی۔

نیب کو پاکستان ریلویز کی جانب سے بھجوائے گئے کیسز میں رائل پام کنٹری کلب کو لیز پر دینے اور کرائے کی مد میں دو ارب 16 کروڑ 20 لاکھ روپے سے زائد کے بقایاجات کی عدم وصولی، مردان ریلوے اسٹیشن کے قریب دو ایکڑ اراضی پر گودام کی لیز اور دفاتر پر قبضے کی مد میں 25 کروڑ روپے سے زائد کا فراڈ اور کراچی گھوٹ میں 42 ایکڑ اراضی کی مد میں 20 کروڑ 30 لاکھ روپے سے زائد کا فراڈ شامل ہے۔

اس کے علاوہ چمن اور کوئٹہ میں پی ٹی سی ایل کو لیز پر دی گئی اراضی اور ریلوے کی کمرشل اراضی پر قبضوں کی مد میں 13 ارب 10 کروڑ روپے سے زائد کی انکوائری، لاہور میں 18 ایکڑ اراضی ٹرسٹ اسپتال شالیمار کو دینے اور لیز کی مد میں 23 ارب 15 کروڑ روپے سے زائد کی رقم کی ادائیگی کا معاملہ، جب کہ پاک بزنس ٹرین کی آؤٹ سورسنگ کے سلسلے میں فور برادرز کمپنی سے متعلق دو ارب 75 کروڑ 20 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا کیس بھی شامل ہے۔

ان تمام کیسز پر نیب نے باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں، جب کہ وزارتِ ریلوے کی جانب سے قائم کی گئی کمیٹی نے بھی نیب کی معاونت کا آغاز کر دیا ہے۔ کمیٹی میں ایم حفیظ اللہ (جنرل منیجر انفرا اسٹرکچر اور فوکل پرسن)، شاہد عباس ملک (ڈائریکٹر جنرل پراپرٹی اینڈ لینڈ)، طارق انور سپرا (چیف کمرشل منیجر) اور سلمان کاظمی (قانونی مشیر) شامل ہیں۔

ریلوے ذرائع کے مطابق فراڈ اور ریلوے اراضی پر قبضے کے یہ کیسز برسوں سے التوا کا شکار تھے۔ رواں ماہ ہونے والی ریلوے کی ایک اہم میٹنگ میں جب وزیرِ ریلوے حنیف عباسی کو ان معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی تو انہوں نے تمام کیسز نیب کو بھجوانے کی منظوری دی اور انہیں شفاف انداز میں منطقی انجام تک پہنچانے کی ہدایت کی، کیونکہ ان فراڈ اور غیر قانونی قبضوں کی مالیت اربوں روپے ہے۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ پاکستان ریلویز کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا، مسافروں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنا اور ادارے سے کرپشن کا مکمل خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے میں کسی افسر کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔

وزیرِ ریلوے نے کہا کہ جو کرے گا، وہ بھرے گا بھی، کرپشن پر کوئی سمجھوتا نہیں، چاہے کوئی بھی ہو۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں چیئرمین نیب سے بات ہو چکی ہے اور انہی کی ہدایت پر ریلوے کے چار اعلیٰ افسران پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی ہے تاکہ تحقیقات کے دوران کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔