نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ خطے میں پاکستان کا کردار نہایت اہم ہے اور اسے خاص طور پر سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مزید کوششیں کرنی چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ جنگی صورتحال میں ایرانی عوام نے جس استقامت کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ چند گھنٹوں میں جیت لی جائے گی، مگر اب خود امریکی اداروں کو بھی معلوم نہیں کہ یہ جنگ کیسے ختم ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان موجود دفاعی تعاون کو مزید وسعت دی جانی چاہیے اور اس میں سب سے پہلے ایران کو شامل کرنا چاہیے۔
امیر جماعتِ اسلامی کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان، ایران اور سعودی عرب مشترکہ دفاعی معاہدہ کر لیتے ہیں تو خلیج کا پورا خطہ محفوظ ہو سکتا ہے اور شیعہ سنی تقسیم بھی کم ہوسکتی ہے، جس سے امت مسلمہ میں اتحاد کا پیغام جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ خلیجی ریاستوں کو اب یہ سمجھ آ رہی ہے کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے ان کی نہیں بلکہ اسرائیل کے مفادات کی حفاظت کرتے ہیں۔
حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ مستقبل میں خلیجی ممالک کو دفاعی معاملات میں خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہیے جب کہ امریکا کے ساتھ تعلقات زیادہ تر معاشی سطح تک محدود رکھنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان، ایران، ترکی اور سعودی عرب پر مشتمل ایک مضبوط بلاک بن جاتا ہے تو نہ صرف خطے میں استحکام آئے گا بلکہ اسرائیل کو بھی پیچھے دھکیل دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو زندہ ہیں؟ کیفے کی ویڈیو نے افواہوں کو رد کر دیا
امیر جماعتِ اسلامی پاکستان نے کہا کہ حکومتِ پاکستان اور اپوزیشن کو چاہیے تھا کہ وہ واضح طور پر امریکا اور اسرائیل کی مذمت کرتے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو محتاط سفارتی کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی نہ بڑھے۔
فلسطین کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام گزشتہ سو سال سے جدوجہد کر رہے ہیں اور شدید مظالم کے باوجود ان کی مزاحمت ختم نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اگر مسلم ممالک متحد ہو جائیں تو غزہ کی پٹی اور ویسٹ بینک میں جاری بحران کے حل کے لیے عالمی دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔







