جمعہ کی صبح جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں پاکستان، ترکیہ، برازیل، اردن، اسپین، ملائیشیا، بنگلہ دیش، کولمبیا، مالدیپ، جنوبی افریقہ اور لیبیا کے وزرائے خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی فورسز کی جانب سے انسانی امداد لے جانے والے پرامن قافلے کو بین الاقوامی پانیوں میں روکنا ایک غیر قانونی اور قابلِ مذمت اقدام ہے۔
“گلوبل صمود فلوٹیلا” ایک مکمل طور پر پرامن اور انسانی ہمدردی پر مبنی مشن تھا جس کا مقصد غزہ میں جاری انسانی بحران کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا اور متاثرہ فلسطینی شہریوں تک امداد پہنچانا تھا۔ قافلے میں مختلف ممالک کے سماجی کارکن، انسانی حقوق کے نمائندے اور امدادی سامان شامل تھا۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اس کارروائی کے دوران فلوٹیلا میں شامل افراد کو حراست میں لینا نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔ وزرائے خارجہ نے گرفتار کیے گئے تمام افراد کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور ان کی سلامتی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اسرائیلی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی امداد کو روکنا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ان کے مطابق عالمی قوانین واضح طور پر انسانی ہمدردی پر مبنی مشنز کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔
اسحاق ڈار نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کی ناکہ بندی ختم کرانے کے لیے فوری اور مؤثر کردار ادا کرے، انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائے اور فلوٹیلا میں شامل تمام افراد کی فوری رہائی کو ممکن بنائے۔
بیان مزید کہا گیا ہے کہ غزہ میں جاری انسانی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور شہری آبادی تک امداد کی ترسیل کو روکنا بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ ممالک نے ایک بار پھر فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
پاکستان نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی رکھتا ہے اور خطے میں فوری اور پائیدار جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ انسانی بحران کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔







