تنظیم کے ذمہ داران سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کے بنیادی، جمہوری اور آئینی حق یعنی طلبہ یونینز پر پابندی افسوس ناک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ طلبہ یونینز اور بلدیاتی ادارے جمہوریت کی بنیاد ہوتے ہیں، تاہم حکمران نہیں چاہتے کہ نوجوانوں کے ہاتھ میں اختیار آئے کیونکہ انہیں طلبہ کی طاقت سے خوف محسوس ہوتا ہے۔
ناظم اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کا تصور چند مخصوص خاندانوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اور اقتدار کو ذاتی مفادات کے تحت برقرار رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی اجارہ داری اسی وقت ختم ہو سکتی ہے جب نچلی سطح سے حقیقی قیادت سامنے آئے۔
ان کا کہنا تھا کہ جہاں حقیقی جمہوریت قائم ہو، وہاں عام اور متوسط طبقے کے افراد آگے بڑھ کر نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔







