نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے مطابق  یو اے ای کے قونصل جنرل بخیت عتیق الرومیتی نے کہا کہ گزشتہ تین سال میں پاکستانی شہریوں کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں ویزا درخواستیں کبھی موصول نہیں ہوئیں جتنی اس وقت کراچی قونصلیٹ کے ویزا سیکشن میں جمع کروائی جا رہی ہیں۔

 ان کے مطابق ہر قسم کے ویزوں کے لیے غیر معمولی رش ہے جس کے باعث پراسیسنگ وقت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ویزا بندش سے متعلق تمام اطلاعات  بالکل غلط  اور بے بنیاد ہیں۔

قونصل جنرل کے مطابق کچھ ویزا کیٹیگریز کے لیے پیشگی اپائنٹمنٹ لینا ضروری ہوتا ہے اور موجودہ رش کے باعث یہ تاریخیں ایک ماہ سے بھی آگے جا رہی ہیں، جسے بعض لوگ غلط طور پر ویزا پابندی سمجھ رہے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل وزارتِ داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹری سلمان چوہدری نے سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق میں بتایا تھا کہ یو اے ای پاکستانیوں کو ویزے جاری نہیں کر رہا۔

انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ سعودی عرب اور یو اے ای نے پاکستانی پاسپورٹ پر مبینہ پابندی عائد کرنے سے روک دیا ہے۔

واضح رہے کہ آج وزارت داخلہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بریفنگ میں بتایا کہ یو اے ای پاکستانیوں کو  ویزے نہیں دے  رہا، صرف بلیو پاسپورٹ  اور ڈپلومیٹک پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے  ویزے  مل  رہے ہیں۔

سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ میں حکام نے بتایا کہ پاکستانی پاسپورٹ  پر  یو اے ای اور سعودی عرب میں پابندی لگتے لگتے بچی ہے، اگر  پابندی لگ گئی تو  اسے ہٹوانا مشکل ہوگا۔

حکام کا کہنا تھا کہ یو اے ای والے ویزا نہیں دے رہے، صرف بلیو پاسپورٹ اور  ڈپلومیٹک پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے  ویزے مل رہے ہیں۔

حکام وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ پڑوسی ملک نےہمارے سسٹم میں مداخلت کی اور پاسپورٹس بنوائے،  اس میں ہماری بھی ذمہ داری ہوگی کہ کرپشن ہوئی ہوگی، چند ماہ قبل سعودی عرب سے بڑے پیمانے پر پاکستانی نکالے گئے، ان میں کئی افغان شہری پاکستانی بن کر مقیم تھے۔

حکام وزارت داخلہ نے بتایا کہ 61 ممالک میں 21 ہزار 647 پاکستانی قید ہیں،  ہم نے 18 سے 20 کروڑ پاکستانیوں کا ڈیٹا ڈیجیٹل طور پر جمع کرلیا ہے، تمام شہریوں کا ریکارڈ موجود ہے اور تصدیق فوراً ہو جاتی ہے، شہری کی شناخت کی تصدیق کے بعد ہی پوچھا جاتا ہے اسے کیا معاونت چاہیے۔

سیکرٹری وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ بیرون ملک گرفتار پاکستانیوں کی اکثریت معمولی نوعیت کے جرائم میں ملوث ہوتی ہے، زیادہ تر گرفتاریاں اوور اسٹے، شناختی فراڈ یا بینک فراڈ کی ہوتی ہیں، قتل، منظم جرائم یا دہشت گردی میں پاکستانی شہری نہ ہونے کے برابر ہیں۔

تاہم کراچی میں یو اے ای کے قونصل جنرل نے سرکاری سطح پر اس تاثر کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویزا پالیسی میں کسی قسم کی پابندی یا تبدیلی نہیں کی گئی اور تمام درخواستیں معمول کے مطابق پراسیس ہو رہی ہیں۔