اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے لیے جاتے ہوئے داہگل ناکا اڈیالا روڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جب ملاقاتیں ہی نہیں کرنے دی جاتیں تو مذاکرات کیسے ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی رہنما ہر منگل کو ملاقات کے لیے آتے ہیں لیکن ملاقات کے بغیر واپس جانا پڑتا ہے، جب کہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے بانی پی ٹی آئی سے کسی کی ملاقات نہیں ہو سکی۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ملاقاتوں کو متنازع بنا کر حالات کو آگے بڑھانے کے بجائے مزید خراب کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حالات معمول پر لانے کے لیے بھاری قیمت مانگی جا رہی ہے، جب کہ پی ٹی آئی کی جانب سے حالات بہتر بنانے کی کوششوں کے مقابلے میں دوسری طرف سے حالات خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور جماعت کی سب سے بڑی طاقت اس کے کارکنان ہیں، جنہوں نے ریاستی سختیاں برداشت کی ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 8 فروری کو پورے ملک میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی اور بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حالات معمول پر لانے کے لیے عمران خان سے ان کی بہنوں اور وکلا کی ملاقات کروائی جائے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کے نوٹیفکیشن جاری کیے جائیں اور جو لوگ بہتری کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں ان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران اسماعیل کا بھی انہیں فون آیا تھا تاہم انہوں نے واضح کر دیا کہ پارٹی تحفظات کے باعث قومی کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گی، پارٹی معاملات پر عوامی سطح پر تبصرہ مناسب نہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ بھیک مانگنے کے بیان کو غلط رنگ دیا گیا، ان کا مقصد یہ تھا کہ عدالتی احکامات، ایس او پیز اور قوانین کے باوجود ملاقات کی اجازت نہ دینا دراصل انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔ ملک کا نظام ساکت ہو چکا ہے اور گزشتہ سال فروری سے اب تک پارٹی قیادت کی ملاقات نہیں ہو سکی۔
انہوں نے کہا کہ اسٹریٹ موومنٹ سے متعلق بانی پی ٹی آئی کی واضح ہدایات ہیں جنہیں کوئی کمیٹی نظر انداز نہیں کر سکتی۔ احتجاج پی ٹی آئی کا آئینی اور جمہوری حق ہے اور پارٹی کا واضح لائحہ عمل موجود ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی سے توقع ہے کہ سندھ میں جلسے کی اجازت دی جائے گی، جب کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو مکمل پروٹوکول دینے کی حمایت کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سینیٹر علی ظفر کو بانی پی ٹی آئی کا اعتماد حاصل ہے، جب کہ ابڑو صاحب کو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ وہ اسی وقت تک عہدے پر رہیں گے جب تک بانی کا اعتماد حاصل ہے۔
عمران خان کی پارٹی 8 فروری کے ووٹرز ہیں ، کروڑوں لوگ عمران خان کے لیے دعا کرتے ہیں میں نے تو کہا تھا 10000 پاکستانیوں کو یہاں آنا چاہیے کیونکہ عمران خان قوم کے لیے جیل کاٹ رہے ہیں ۔
— PTI (@PTIofficial) January 6, 2026
علیمہ خان
pic.twitter.com/qzDEUImMvp
دوسری جانب عمران خان کی بہن علیمہ خان نے گورکھپور ناکا پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ راستے بند ہونے کے باعث قرآن خوانی میں تاخیر ہوئی، تاہم جہاں روکا جاتا ہے وہیں قرآن خوانی شروع کر دی۔







