پی ٹی آئی کے مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ رکن قومی اسمبلی ثناء اللہ خان مستی خیل، داور خان کنڈی، احسان جمال خان، میاں غوث اور عادل خان بازی سمیت رکن صوبائی اسمبلی چترال فتح الملک کی گرفتاری کی اطلاعات تشویش ناک ہیں۔
پی ٹی آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ پارلیمنٹ لاجز اور قومی اسمبلی کے باہر سے منتخب نمائندوں کی گرفتاریاں ریاستی طاقت کے مبینہ بلاامتیاز استعمال اور سیاسی اختلافِ رائے کو دبانے کی کوشش کی عکاسی کرتی ہیں۔
پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پی ٹی آئی کارکنان، رہنماؤں اور حامیوں کے خلاف مبینہ سیاسی انتقامی کارروائیاں فوری طور پر بند کی جائیں۔
بیان میں کہا گیا کہ منتخب ارکانِ پارلیمنٹ کی گرفتاریاں عوام کی آواز کو خاموش نہیں کر سکتیں اور نہ ہی پی ٹی آئی کی آئینی و جمہوری جدوجہد کو روکا جا سکتا ہے۔
پی ٹی آئی کے مطابق پارلیمنٹ عوام کے مینڈیٹ کی علامت ہے اور اسے سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیوں کا مرکز بنانا جمہوری نظام کے لیے خطرناک رجحان ہے۔
پی ٹی آئی نے کہا کہ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ گرفتاریاں، چھاپے، دھمکیاں اور مقدمات پارٹی کو عوام سے دور کر سکتے ہیں تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ ایسے اقدامات سیاسی کشیدگی کم کرنے کے بجائے مزید بڑھائیں گے۔
مزید پڑھیں: علیمہ خان کے بعد نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی نظربند، کوٹ لکھپت جیل منتقل
تحریک انصاف نے تمام گرفتار ارکانِ پارلیمنٹ کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ گرفتار افراد کو ان کے اہلِ خانہ اور وکلا تک رسائی دی جائے۔ اگر کسی فرد کے خلاف قانونی الزامات موجود ہیں تو اسے عدالت کے سامنے پیش کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
پی ٹی آئی نے زور دیا کہ ریاستی اداروں کو سیاسی معاملات میں طاقت کے استعمال کے بجائے آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی یقینی بنانی چاہیے۔
پارٹی نے اپنے بیان میں ایک بار پھر کہا کہ وہ کسی بھی صورت اپنے آئینی، جمہوری اور پُرامن سیاسی حقوق سے دستبردار نہیں ہوگی۔







