کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دو روز قبل ہی ہدایات جاری کر دی گئی تھیں کہ کرائے نہ بڑھائے جائیں، جس کے بعد محکمہ ٹرانسپورٹ نے ٹرانسپورٹرز اور متعلقہ حکام سے مشاورت کی۔ ان کے مطابق ٹرانسپورٹرز نے حکومت کے ساتھ تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے اور یہ طے پایا ہے کہ 28 فروری کے مقررہ کرایے ہی برقرار رہیں گے۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت ٹرانسپورٹرز کے اضافی اخراجات برداشت کرے گی جبکہ رجسٹرڈ بسوں کے لیے فی بس ایک لاکھ روپے کی رقم وفاق کی جانب سے صوبے کو فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت صوبے میں 470 سرکاری بسیں جبکہ مجموعی طور پر تقریباً 11 ہزار بسیں چل رہی ہیں اور ان اقدامات کا مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ غیر رجسٹرڈ ٹرانسپورٹرز اگر من مانی کرتے ہوئے کرائے بڑھائیں گے تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ جلد از جلد رجسٹریشن کروا کر سبسڈی سے فائدہ اٹھائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہدف کے تحت دی جانے والی سبسڈی زیادہ مؤثر ہوتی ہے کیونکہ اس کا براہِ راست فائدہ مستحق افراد تک پہنچتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آن لائن کھانے یا سفری سہولیات استعمال کرنے والے افراد عموماً بہتر مالی حیثیت رکھتے ہیں اور ان خدمات کی لاگت بھی وہی برداشت کرتے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے وزرا کو ہدایت کی کہ وہ اپنے پروٹوکول سے متعلق ویڈیوز عوام کے ساتھ شیئر کریں تاکہ حکومتی امور میں شفافیت کو فروغ دیا جا سکے۔







