انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنی کارکردگی عوام کے سامنے رکھنی چاہیے۔ پیپلز پارٹی بھی اپنی کارکردگی بتائے، کیونکہ عوام اب عملی اقدامات کا جائزہ لیتے ہیں۔

رانا سکندر حیات کے مطابق پنجاب میں تعلیم کے شعبے میں متعدد بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ نواز شریف سکولز آف ایمننس کی تعداد 65 سے بڑھا کر 300 کرنے کا منصوبہ ہے، جہاں ہزاروں طلبہ کو جدید اور مفت معیاری تعلیم فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں پہلی جماعت سے بارہویں جماعت تک مصنوعی ذہانت (AI) کا نصاب ستمبر سے نافذ کیا جائے گا، جو عالمی شراکت داروں کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔

وزیر تعلیم کے مطابق میٹرک ٹیکنالوجی پروگرام میں رواں سال 50 ہزار طلبہ نے داخلہ لیا، جبکہ نواز شریف سکولز آف ایمننس میں روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کی لیبارٹریز بھی قائم کی جا رہی ہیں۔ ان سکولز میں فی طالب علم حکومتی سبسڈی تقریباً ساڑھے چار ہزار روپے ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ دانش سکولز یتیم اور مستحق بچوں کے لیے رہائشی اور مفت تعلیم کا منفرد منصوبہ ہیں، جہاں سے فارغ التحصیل طلبہ عالمی جامعات میں بھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

رانا سکندر حیات نے دعویٰ کیا کہ پنجاب کے تعلیمی منصوبوں سے دیگر صوبوں کے طلبہ بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ تعلیم کے شعبے میں ایک لاکھ سے زائد افراد کو روزگار فراہم کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کو روزگار ملا، جبکہ بارشوں سے نمٹنے کے لیے تمام اضلاع کو جدید مشینری فراہم کی گئی ہے۔

صوبائی وزیر تعلیم کے مطابق واسا کا انفراسٹرکچر شہری علاقوں سے بڑھا کر دیگر اضلاع تک پھیلایا گیا، جبکہ مریم کی دستک ایپ کے ذریعے متعدد سرکاری خدمات آن لائن فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ عوام کو سہولت مل سکے اور رشوت کے امکانات کم ہوں۔

انہوں نے کہا کہ دھی رانی پروگرام کے ذریعے تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والی مستحق بچیوں کو یکساں سہولیات دی جا رہی ہیں، جبکہ الیکٹرک بسیں، اسکالرشپس اور موٹرویز پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کی مثالیں ہیں۔