قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ گزشتہ 78 برسوں میں پاکستان کو ایسی کامیابی کم ہی نصیب ہوئی ہے جیسی آج حاصل ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین سال سے پاکستان کی کامیابی کے لیے جاری کوششوں کا سب سے بڑا ثمر اللہ تعالیٰ نے آج عطا کیا ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ اگر ماضی میں بھی راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان اسی نوعیت کا تعاون اور ہم آہنگی موجود ہوتی تو پاکستان کئی بین الاقوامی اعزازات اور کامیابیاں پہلے ہی حاصل کر چکا ہوتا۔

انہوں نے ایران اور ایرانی عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قیادت نے انتہائی مشکل حالات میں اپنی قوم کی بہترین نمائندگی کی ہے۔ ایران کے ساتھ دہائیوں سے ہونے والی ناانصافیوں کے خاتمے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ گزشتہ سوا سال کے دوران پاکستان کو جو کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، ان پر پوری قوم کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی پوری قوم اسی طرح متحد ہو جائے تو کامیابی یقینی ہوگی۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف حکومت یا سکیورٹی اداروں کی نہیں بلکہ 25 کروڑ پاکستانیوں کی مشترکہ جنگ ہے، اس لیے تمام طبقات کو اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو حل کرنا بھی ضروری ہے اور حالیہ سفارتی کامیابی سے قوم کو سبق سیکھنا چاہیے۔ قومی مفادات کے حصول کے لیے اتحاد اور یکجہتی ناگزیر ہے۔

خواجہ آصف نے تمام سیاسی قوتوں سے اپیل کی کہ وہ فلسطین اور کشمیر کے مسائل پر بھی متحد ہو کر ایک مشترکہ قومی مؤقف اختیار کریں تاکہ عالمی سطح پر ان اہم معاملات کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔