پولیس کے مطابق، مارچ میں شامل افراد کو منتشر کرنے کی کارروائی کے دوران ایک ایس ایچ او جان سے گئے اور 80 سے زائد اہلکار زخمی ہوئے، جب کہ ٹی ایل پی نے بھی اپنے کئی کارکنوں کی اموات، زخمی ہونے اور گرفتاریوں کا دعویٰ کیا تھا۔

مریدکے واقعے کا مقدمہ ٹی ایل پی رہنماؤں کے خلاف درج کیا گیا، تاہم اس جماعت کے سربراہ سعد حسین رضوی، ان کے چھوٹے بھائی انس حسین رضوی اور دیگر مرکزی قائدین کے بارے میں اب تک کوئی اطلاع نہیں کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔ نہ صرف ان کی جماعت لاعلمی کا اظہار کر رہی ہے بلکہ پولیس نے بھی ان کی گرفتاری کی تردید کی ہے۔

اس کارروائی کے دوران ٹی ایل پی کی جانب سے اپنے متعدد کارکنوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے دعوے کیے گئے، تاہم پولیس کی جانب سے پانچ افراد کی ہلاکت اور درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

مزید برآں، ٹی ایل پی کا کہنا ہے کہ اس کا احتجاج غزہ کی صورتحال پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے خلاف تھا۔ جماعت کے سربراہ سعد حسین رضوی نے اعلان کیا تھا کہ وہ لاہور سے اسلام آباد تک ’الاقصیٰ غزہ مارچ‘ کریں گے۔ پولیس کے مطابق، کارکنوں نے راستے میں رکاوٹیں توڑ کر مریدکے تک رسائی حاصل کی، جہاں آپریشن کے دوران تصادم ہوا۔

مریدکے میں پولیس کی کارروائی کے بعد باقاعدہ طور پر ٹی ایل پی سے منسلک سینکڑوں افراد کی گرفتاریوں کا عمل شروع ہو گیا۔


پنجاب میں امن و امان کے حوالے سے ہونے والے ایک اجلاس میں پیش کی جانے والی رپورٹ کے مطابق، اب تک تقریباً 5100 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جب کہ چھاپوں اور گرفتاریوں کا عمل اب بھی جاری ہے۔

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق، لاہور سے ٹی ایل پی سے منسلک تقریباً 600 افراد، فیصل آباد سے 350، جب کہ 200 کے قریب افراد کو شیخوپورہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ پنجاب کے دیگر شہروں سے بھی درجنوں افراد کی گرفتاری عمل میں لائی جا رہی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق، اُنہیں ایک سکیورٹی ادارے کے افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹی ایل پی کے خلاف کریک ڈاؤن بلاتفریق کیا جا رہا ہے۔ جو لوگ احتجاج کا حصہ تھے، وہ اور جو احتجاج کا حصہ نہیں تھے مگر ٹی ایل پی سے وابستہ ہیں، اُنہیں بھی گرفتار کیا جا رہا ہے۔

16 اکتوبر کو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت امن و امان کے اجلاس میں پنجاب حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کو ٹی ایل پی پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جب کہ نفرت انگیزی، اشتعال انگیزی اور قانون شکنی میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اب تک ٹی ایل پی کے خلاف پنجاب کے مختلف شہروں میں 76 مقدمات درج کیے گئے ہیں، جب کہ تحریک لبیک کے زیرِ انتظام درجنوں مساجد بھی انتظامیہ کی جانب سے سیل کر دی گئی ہیں۔ یہاں تک کہ متعدد ائمہ بھی گرفتار کر لیے گئے ہیں۔

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے آج لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پنجاب کابینہ نے تحریک لبیک پر پابندی لگانے کے لیے منظوری دے دی ہے۔ کابینہ کی یہ منظوری وفاقی حکومت کو بھیجوا دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ عرصے سے پاکستان میں مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے ’انتہا پسندی‘ کی سیاست کی جا رہی ہے اور ایک مذہبی جماعت نے غزہ کے معاملے پر تشدد آمیز احتجاج کا فیصلہ کیا۔

اسی طرح، آج مذہبی جماعتوں کی جانب سے صوبہ پنجاب میں ہونے والی ممکنہ ہڑتال کے پیش نظر پولیس نے تقریباً 40 ہزار اہلکار تعینات کیے ہوئے ہیں تاکہ کسی کو سڑکوں پر آنے سے روکا جا سکے۔

یاد رہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے خلاف مریدکے میں ہونے والی پولیس کارروائی کے ردِعمل میں سنی مسلک کی جماعتوں پر مشتمل گروپ تنظیم اہلسنت نے جمعہ کو احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

گزشتہ رات آئی جی پنجاب عثمان انور نے امن و امان سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں شہریوں کی جان و مال، املاک کا تحفظ اور قانون کی پاسداری بہرصورت یقینی بنائی جائے گی، جب کہ مارکیٹیں، کاروباری مراکز، ٹرانسپورٹ اور شاہراہیں کھلی رہیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کی مذہبی سیاسی جماعت پر پابندی کی سفارش، گزشتہ نو سالوں میں احتجاجات کے دوران 11 پولیس اہلکار شہید، 1648 زخمی ہوئے

اس حوالے سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اُنہوں نے خبردار کیا کہ شرپسندی پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہوں گے، جن پر 10 سے 14 سال تک سزا ہو گی۔

آئی جی پنجاب کے مطابق، آج (جمعے کے روز) پنجاب پولیس کے 27 ہزار افسران و اہلکار سڑکوں پر ڈیوٹی کریں گے، جب کہ سپیشل برانچ کے 12 ہزار اہلکار بھی شرپسندوں کی ممکنہ کارروائیوں پر نظر رکھیں گے۔

پنجاب پولیس کے 27 ہزار افسران و اہلکار سڑکوں پر ڈیوٹی کریں گے، سپیشل برانچ کے 12 ہزار اہلکار شرپسندوں کو پکڑیں گے، اور سپیشل برانچ کے خصوصی مصنوعی ذہانت انجنز سے بھی شرپسندوں کو پکڑا جائے گا۔

آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں سکیورٹی بڑھانے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’مساجد، امام بارگاہوں، مزارات، مارکیٹوں اور حساس مقامات کی سکیورٹی یقینی بنائیں۔‘

انہوں نے ضلعی پولیس افسران سمیت سینیئر پولیس افسران سے کہا ہے کہ وہ فیلڈ میں موجود رہیں اور سکیورٹی انتظامات کا خود جائزہ لیں۔ دفعہ 144 کی پابندی پر عملدرآمد یقینی بنائیں، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے۔

اسی طرح گزشتہ روز جمعرات کو اسلام آباد میں بھی ایک اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک میں حالیہ امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

وزارتِ داخلہ کے ایک بیان کے مطابق، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حالیہ ہنگاموں میں سرکاری و نجی املاک کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگایا جائے گا اور عوام کی سکیورٹی و تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ملک میں کسی کو بھی بدامنی اور انتشار پھیلانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔