بجٹ اجلاس اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی صدارت میں ایک گھنٹہ چالیس منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز پر تلاوتِ کلام پاک، نعتِ رسولِ مقبول ﷺ اور قومی ترانہ پیش کیا گیا، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بھی ایوان میں موجود تھیں۔

بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔ اپوزیشن ارکان نے شرم کرو، حیا کرو، خان کو رہا کرو اور جعلی بجٹ نامنظور کے نعرے لگائے، جب کہ عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر مبنی پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے۔

وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان کی بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر اسپیکر ڈائس کے قریب جمع ہوگئے اور احتجاج جاری رکھا۔

وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ پنجاب کی معیشت مسلسل بہتری کی جانب گامزن ہے۔ ان کے مطابق پنجاب کی فی کس آمدنی بڑھ کر 1904 ڈالر تک پہنچ چکی ہے جبکہ گزشتہ تین برسوں کے دوران فی کس آمدنی میں 47 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی معیشت میں پنجاب کا حصہ بڑھ کر 55.7 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق قومی مقاصد اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے وفاق کو 1035 ارب روپے درکار تھے، جس میں پنجاب حکومت 546 ارب روپے کا حصہ فراہم کرے گی۔

 بجٹ دستاویزات کے مطابق پنجاب حکومت کو وفاق سے تقریباً 3900 ارب روپے ملنے کا امکان ہے جبکہ نان ٹیکس محصولات کا تخمینہ 461 ارب 17 کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے۔

حکومت نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی کا دعویٰ کیا ہے۔ وزراء، مشیروں اور معاونینِ خصوصی کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی کی گئی جبکہ سرکاری گاڑیوں کے استعمال اور دیگر اخراجات میں کمی لائی گئی۔ حکومت نے 74 گاڑیاں نیلام کر کے 78 کروڑ روپے کے اخراجات بچانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ عوامی ریلیف کے لیے 87 ارب 25 کروڑ روپے کی فیول سبسڈی فراہم کی گئی جبکہ 2025 کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے 79 ارب 78 کروڑ روپے کا امدادی پیکج دیا گیا، جس کے تحت 21 ہزار متاثرہ خاندانوں کو 50 ہزار روپے فی کس امداد فراہم کی گئی۔

حکومت نے ای گورننس کے فروغ کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل رکھا ہے۔ ای بز، ای پے اور ای پیڈز منصوبوں کا دائرہ کار مزید وسیع کیا گیا ہے۔ ای بز سے 29 لاکھ سے زائد شہری مستفید ہو چکے ہیں جبکہ 320 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹل نظام سے منسلک کیا جا چکا ہے۔ ای پے کے ذریعے 88 اقسام کے سرکاری محصولات جمع کیے جا رہے ہیں جبکہ ای پیڈز کے تحت شفاف ای پروکیورمنٹ نظام نافذ کیا گیا ہے۔

ترقیاتی پروگرام کے لیے 1962 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ بلدیاتی اداروں کے لیے 803 ارب 88 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 10 ارب 60 کروڑ روپے، مری ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 10 ارب 70 کروڑ روپے اور کچے کے علاقوں کی ترقی کے لیے 5 ارب 78 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

تعلیم کے شعبے کے لیے 750 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ہونہار اسکالرشپ پروگرام کے لیے 15 ارب روپے، وزیراعلیٰ پنجاب لیپ ٹاپ پروگرام کے لیے 27 ارب روپے اور یوتھ ڈویلپمنٹ اقدامات کے لیے 39 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

اسکولوں میں اضافی کلاس رومز کی تعمیر، یونیورسٹی گرانٹس اور مختلف تعلیمی منصوبوں کے لیے بھی خطیر فنڈز رکھے گئے ہیں۔ میاں نواز شریف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی قصور کے قیام کا منصوبہ بھی بجٹ کا حصہ ہے۔

صحت کے شعبے کے لیے 500 ارب روپے سے زائد رقم مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ لاہور، نواز شریف کینسر اسپتال لاہور، کلثوم نواز کینسر اسپتال ڈی جی خان، مریم نواز ہیلتھ کلینکس اور دیگر بڑے منصوبوں کے لیے اربوں روپے رکھے گئے ہیں۔ ڈی جی خان میں کلثوم نواز کینسر اسپتال کے لیے 15 ارب 21 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

بجٹ میں مفت ادویات کی فراہمی کے لیے 100 ارب روپے کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ معیاری ادویات، ڈائیلیسس پروگرام، ہارٹ سرجری پروگرام، شوگر اور فالج کے مریضوں کے علاج کے لیے بھی خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ مریم نواز ہیلتھ کلینک پروگرام کے تحت ہزاروں مراکز صحت کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

عام آدمی سے براہِ راست تعلق رکھنے والے منصوبوں میں ستھرا پنجاب پروگرام نمایاں ہے، جس کے لیے 150 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ چیف منسٹر صاف پانی پروگرام کے لیے 8 ارب روپے رکھے گئے ہیں تاکہ شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

سماجی تحفظ کے لیے 25 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ رمضان پیکج کے لیے 35 ارب روپے رکھنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف اشیائے ضروریہ پر سبسڈی، ہمت کارڈ، اقلیتی کارڈ، راشن کارڈ اور دیگر فلاحی پروگراموں کے لیے بھی اربوں روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

رہائشی سہولتوں کے فروغ کے لیے اپنی چھت، اپنا گھر پروگرام کے تحت بلاسود قرضوں کی مد میں 300 ارب روپے کے منصوبے کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے ذریعے کم آمدنی والے افراد کو گھر بنانے اور خریدنے کے لیے آسان قرضے فراہم کیے جائیں گے۔

زرعی شعبے میں کسان کارڈ پروگرام، کسان کارڈ فیز ٹو، گرین ٹریکٹر پروگرام، لائیو اسٹاک کارڈ اور دیگر زرعی اسکیموں کے لیے اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں۔ زراعت، لائیو اسٹاک اور ایکوا کلچر کے فروغ کے لیے 132 ارب 54 کروڑ روپے جبکہ نہری نظام کی بہتری کے لیے 61 ارب 14 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ٹرانسپورٹ کے شعبے کے لیے 78 ارب 50 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ فیصل آباد اور گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ منصوبوں، ریلوے ٹریکس کی بحالی اور تحصیل ہیڈکوارٹرز کے لیے دو ہزار الیکٹرک بسوں کی فراہمی کے منصوبوں کو بھی بجٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں اور امن و امان کے قیام کے لیے محفوظ پنجاب ویژن کے تحت 252 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کے لیے 12 ارب 88 کروڑ روپے، ہوم ڈیپارٹمنٹ کے لیے 2 ارب روپے، عدلیہ کے لیے 3 ارب روپے، قانونی و پارلیمانی امور کے لیے 2 ارب 20 کروڑ روپے اور پبلک پراسیکیوشن کے لیے 83 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

بورڈ آف ریونیو کے لیے 18 ارب 95 کروڑ روپے، جنگلات اور جنگلی حیات کے لیے 8 ارب 10 کروڑ روپے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیے 83 کروڑ روپے، لیبر اینڈ ہیومن ریسورس کے لیے 63 کروڑ روپے، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے لیے 20 کروڑ روپے جبکہ محکمہ خزانہ کے لیے 2 ارب 43 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اور پنشن میں 3.5 فیصد اضافے کی تجویز بھی شامل ہے۔ تنخواہوں کے لیے 650 ارب روپے جبکہ پنشن کے لیے 505 ارب 80 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

حکومت نے کیش مینجمنٹ فنڈز کو 800 ارب روپے سے بڑھا کر 1000 ارب روپے کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق مریم نواز اسپورٹس سٹی لاہور، مریم نواز آٹزم اسکولز، مختلف اسپورٹس کمپلیکسز، پارکس، سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور دیگر عوامی فلاحی منصوبوں کو بھی بجٹ میں شامل کیا گیا ہے۔

حکومت پنجاب اس بجٹ کو ترقی، روزگار، تعلیم، صحت، ڈیجیٹلائزیشن اور عوامی ریلیف کا بجٹ قرار دے رہی ہے، جب کہ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ بجٹ میں عوام کو حقیقی ریلیف فراہم نہیں کیا گیا۔