تفصیلات کے مطابق دی بینک آف پنجاب کے آسان کاروبار کارڈ سسٹم پر مبینہ سائبر حملے کے نتیجے میں تقریباً 97 ارب روپے کی مشتبہ ٹرانزیکشنز سامنے آئی ہیں۔

 ذرائع کا کہنا ہے کہ بینک کا سسٹم گزشتہ دو ماہ سے ہیک تھا، جس دوران کارڈ ہولڈرز کے اکاؤنٹس سے رقم کٹنے کے بغیر رقوم آگے منتقل ہوتی رہیں، جب کہ ایک ایک کارڈ کے ذریعے سے 50, 50  لاکھ روپے تک کی ٹرانزیکشنز کی گئیں۔

ذرائع کے مطابق بعض افراد نے 30 سے 70 فیصد کمیشن پر کارڈ سوائپ کروا کر بھاری رقوم حاصل کیں۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد بینک انتظامیہ نے متعلقہ ڈیٹا سائبر کرائم ونگ کے حوالے کر دیا۔

مزید بتایا گیا ہے کہ مظفرگڑھ، ملتان اور شجاع آباد کے مختلف علاقوں سے 40 سے زائد ڈیوائس مالکان کو حراست میں لے کر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا گیا ہے، جہاں ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے تفتیش جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بینک کی جانب سے داخلی آڈٹ مکمل کر لیا گیا ہے اور مبینہ طور پر ملوث افراد کی فہرستیں بھی تیار کر لی گئی ہیں، جب کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اصل مالی نقصان اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔

دوسری جانب نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے پنجاب حکومت کی آسان کاروبار اسکیم میں بڑے فراڈ کے حوالے سے بتایا ہے کہ پنجاب بینک کے سسٹم میں موجود خامی کا فائدہ اٹھا کر کروڑوں روپے

کا فراڈ کیا گیا۔


این سی سی آئی اے کے مطابق اب تک 70 سے زائد ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے پنجاب بینک کی درخواست پر مقدمہ درج کر لیا ہے، جب کہ این سی سی آئی اے میں 24 مرد و خواتین کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق فراڈ میں ملوث اور اس سے فائدہ اٹھانے والے افراد کا تعلق پنجاب کے مختلف اضلاع سے ہے، جب کہ گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر مزید گرفتاریوں کا عمل بھی جاری ہے۔

این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ مقدمہ پنجاب بینک کے فیلڈ کلیکشن افسر علی انصر کے بیان پر درج کیا گیا ہے اور تحقیقات مختلف پہلوؤں سے آگے بڑھ رہی ہیں۔