حکومتی اعلامیے کے مطابق صوبے بھر میں موٹر سائیکل کی رجسٹریشن فیس مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے، جبکہ ملکیت کی منتقلی یعنی ٹرانسفر فیس بھی معاف کر دی گئی ہے،اس اقدام سے نہ صرف شہریوں کے اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ گاڑیوں کی رجسٹریشن کے عمل کو بھی آسان بنایا جا سکے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے مالی معاونت کا ایک نیا نظام بھی متعارف کرایا ہے، جس کے تحت ہر رجسٹرڈ موٹر سائیکل مالک کو ماہانہ 2000 روپے سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ مزید برآں پٹرول کی قیمتوں میں ریلیف دینے کیلئے خصوصی اسکیم بھی شروع کی گئی ہے، جس کے تحت ہر رجسٹرڈ موٹر سائیکل کیلئے ماہانہ 20 لیٹر پٹرول 100 روپے فی لیٹر کی رعایتی قیمت پر فراہم کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق یہ سبسڈی پروگرام فوری طور پر نافذ العمل کر دیا گیا ہے تاکہ عوام کو جلد از جلد ریلیف مل سکے۔ اس اقدام کو موجودہ مہنگائی کے تناظر میں ایک بڑا سہارا قرار دیا جا رہا ہے، خصوصاً ان افراد کیلئے جو روزمرہ آمدورفت کیلئے موٹر سائیکل پر انحصار کرتے ہیں۔
حکومت نے سبسڈی کے حصول کیلئے طریقہ کار بھی جاری کر دیا ہے۔ شہری ہیلپ لائن 1000 پر کال کر کے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ مریم کو بتائیں موبائل ایپ کے ذریعے بھی درخواست جمع کروائی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک آن لائن پورٹل بھی فعال کر دیا گیا ہے جہاں صارفین اپنی رجسٹریشن مکمل کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا، بلومبرگ
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا ہے اور اس مقصد کیلئے مزید اقدامات بھی زیر غور ہیں،مہنگائی کے موجودہ دباؤ میں عوام کو سہولت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے اور حکومت اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس پیکیج پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کیا گیا تو اس سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہوں گے بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں بھی بہتری آئے گی۔ تاہم کچھ حلقوں نے اس منصوبے کی مالی پائیداری اور شفافیت کے حوالے سے سوالات بھی اٹھائے ہیں، جن پر حکومت کی جانب سے جلد وضاحت متوقع ہے۔







