پولیس رپورٹ کے مطابق سال 2016 سے 2025 تک ٹی ایل پی کے مختلف پرتشدد مظاہروں میں 11 پولیس اہلکار شہید، جب کہ 1648 زخمی ہوئے۔
زخمیوں میں 69 اہلکار مستقل معذور ہوئے، 202 کو شدید چوٹیں آئیں اور 1194 کو معمولی زخم لگے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ جھڑپوں کے دوران 16 عام شہری جاں بحق اور 54 زخمی ہوئے۔
پولیس کے مطابق 97 سرکاری گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوئیں، دو کو نذرِ آتش کیا گیا، جب کہ 10 تھانوں اور پولیس عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق ٹی ایل پی مظاہرین کے خلاف 305 مقدمات انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت اور 480 دیگر فوجداری دفعات کے تحت درج کیے گئے۔
واضح رہے کہ حالیہ واقعات میں 1529 نامزد افراد اور 17,800 نامعلوم مظاہرین کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹی ایل پی کے احتجاجات کے دوران مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ اور فائرنگ کے واقعات بھی کیے۔
مزید پڑھیں: ایوان کی اب کوئی اہمیت نہیں رہی، کارکن اسلام آباد جانے کی تیاری کریں، مولانا فضل الرحمان
دوسری جانب وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں صوبے بھر میں ریاستی رٹ قائم کرنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب حکومت وفاق سے ایک انتہا پسند جماعت پر پابندی کی سفارش کرے گی۔
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ نفرت انگیز تقاریر، اشتعال انگیزی اور قانون شکنی میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری عمل میں لائی جائے گی، جب کہ پولیس اہلکاروں کی شہادت اور عوامی املاک کی تباہی کے مقدمات انسدادِ دہشت گردی عدالتوں میں چلائے جائیں گے۔







