ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں صوبے کے مالیاتی معاملات، بجٹ تجاویز، ترقیاتی منصوبوں اور آئندہ سال کے معاشی اہداف پرغور کیا گیا۔

اجلاس میں مختلف محکموں کی جانب سے پیش کی گئی بجٹ سفارشات کا جائزہ لیا گیا جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، پنشن میں ممکنہ اضافے، عوامی ریلیف کے اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق تجاویز بھی زیر بحث آئیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ اراکین نے بجٹ کی مختلف شقوں اور ان کے ممکنہ اثرات پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ حکومت کی جانب سے تعلیم، صحت، انفرااسٹرکچر اور عوامی سہولتوں سے متعلق منصوبوں کو بھی بجٹ ترجیحات میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے آئندہ مالی سال کا بجٹ پنجاب اسمبلی میں پیش کرنے کی منظوری دی، جس کے بعد بجٹ دستاویز کو ایوان میں پیش کرنے کے مراحل مکمل کیے جائیں گے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں پنجاب اسمبلی کے آئندہ بجٹ اجلاس کے حوالے سے حکمت عملی پر مشاورت کی گئی۔

 پارلیمانی پارٹی اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کو ہدایت کی گئی کہ وہ بجٹ اجلاس میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں اور ایوان کی کارروائی میں فعال کردار ادا کریں۔

مزید پڑھیں: بجٹ پر تنقید اور احتجاج اپوزیشن کا حق، مثبت اقدامات کی تعریف ہونی چاہیے: وزیر اطلاعات

اجلاس میں حکومت کی بجٹ ترجیحات، عوامی فلاحی منصوبوں اور اسمبلی میں پارٹی پوزیشن سے متعلق امور پر بھی گفتگو کی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی شرکت کا بھی امکان ہے، جہاں وہ صوبائی حکومت کی آئندہ مالی سال کی پالیسیوں اور ترجیحات سے متعلق اظہار خیال کر سکتی ہیں۔

سیاسی حلقوں کے مطابق پنجاب کا آئندہ بجٹ حکومت کی ترقیاتی پالیسیوں اور عوامی ریلیف کے اقدامات کا آئینہ دار ہوگا، جبکہ اسمبلی اجلاس کے دوران بجٹ تجاویز پر تفصیلی بحث متوقع ہے۔