صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے لاہور میں ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے زیر اہتمام سائنسدانوں اور اساتذہ  کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت تعلیمی شعبے کی بہتری کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے اور اسی وژن کے تحت جامعات کو درپیش مالی مشکلات کے حل کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ صوبے کی سرکاری جامعات کا سالانہ بجٹ 2 ارب روپے سے بڑھا کر 25 ارب روپے کر دیا گیا ہے، جو ماضی کے مقابلے میں ایک تاریخی اضافہ ہے،جامعات کی مجموعی فنڈنگ میں تقریباً 1100 فیصد اضافہ کیا گیا ہے تاکہ تعلیمی اداروں کو مالی استحکام حاصل ہو اور وہ تدریس، تحقیق اور جدید سہولیات کی فراہمی پر بھرپور توجہ دے سکیں۔

رانا سکندر حیات نے کہا کہ حکومت نے جامعات میں شفافیت اور میرٹ کے فروغ کے لیے وائس چانسلرز کی تقرریاں مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کی ہیں۔ مضبوط اور باصلاحیت قیادت ہی تعلیمی اداروں کو عالمی معیار کے مطابق ترقی دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

صوبائی وزیر تعلیم نے ہونہار طلبہ کے لیے شروع کیے گئے اسکالرشپ پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہونہار اسکالرشپ فنڈ کو 15 ارب روپے سے بڑھا کر 20 ارب روپے تک لے جانے کی تجویز زیر عمل ہے، جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ مستحق اور قابل طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور سرکاری جامعات میں طلبہ کے داخلوں کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے، والدین اور طلبہ کا سرکاری تعلیمی اداروں پر اعتماد بحال ہو رہا ہے، جو اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے لیے خوش آئند پیش رفت ہے۔

مزید پڑھیں: بجٹ پر تنقید اور احتجاج اپوزیشن کا حق، مثبت اقدامات کی تعریف ہونی چاہیے: وزیر اطلاعات

رانا سکندر حیات نے مزید بتایا کہ حالیہ برسوں میں پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ نے مختلف قومی سطح کے مقابلہ جاتی امتحانات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں،  سی ایس ایس امتحان میں کامیاب ہونے والے تقریباً 40 امیدوار پنجاب یونیورسٹی سے تعلق رکھتے ہیں، جو ادارے کے تعلیمی معیار اور طلبہ کی صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ پنجاب حکومت تعلیم، تحقیق اور جدت کے فروغ کے لیے آئندہ بھی ہر ممکن وسائل فراہم کرے گی تاکہ صوبے کی جامعات ملکی اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر سکیں۔