انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو عدالت میں چیلنج کیا ہے کیونکہ یہ آئین سے متصادم ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومتیں نچلی سطح پر اختیارات منتقل نہیں کر رہیں اور بلدیاتی نظام کو کمزور کیا جا رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت بلدیاتی انتخابات کروانے میں سنجیدہ نہیں اور غیر جماعتی بنیادوں پر کونسلرز منتخب کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے عوام کا حق حکمرانی متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونین کونسل کی سطح پر بھی عوام کو اپنی مرضی کے نمائندے منتخب کرنے کا مکمل اختیار نہیں دیا جا رہا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب میں جمہوریت کے بجائے آمریت کا طرزِ حکومت اپنایا جا رہا ہے اور صوبائی حکومت اقتدار کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے بجائے اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول یہ اقدام “جمہوریت کی نرسری پر کلہاڑا چلانے کے مترادف ہے”۔
مسلم لیگ (ن) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر بھی جمہوری اقدار کا فقدان ہے اور قیادت چند افراد تک محدود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اس اقدام کے خلاف قانونی جنگ جاری رکھے گی۔
انہوں نے بتایا کہ آج کی سماعت میں مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے اور عدالت نے ریمارکس دیے ہیں کہ کیس کو غیر ضروری طور پر التوا کا شکار نہ بنایا جائے۔
میڈیا ٹاک کے دوران انہوں نے ملک میں بجلی کے بحران کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو ہو چکا ہے، گھنٹوں بجلی کی بندش عوام کے لیے ظلم ہے، حالانکہ پاکستان کے پاس تقریباً 49 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
آخر میں انہوں نے زور دیا کہ بلدیاتی انتخابات ایسے قانون کے تحت ہونے چاہئیں جو حقیقی معنوں میں عوام کی نمائندگی کو یقینی بنائے، کیونکہ بڑی سیاسی جماعتیں اس نظام کو سنجیدگی سے نہیں لیتیں۔







