عرفان علی کاٹھیا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دریائے جہلم میں پانی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جب کہ دریائے سندھ میں انڈیا کی طرف سے مزید پانی آنے کا امکان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دریائے راوی میں بھی انڈیا سے 35 ہزار کیوسک تک پانی چھوڑے جانے کی توقع ہے، جب کہ اگلے 48 گھنٹوں میں ہیڈ مرالہ پر پانی کی سطح ایک لاکھ کیوسک سے تجاوز کر سکتی ہے۔
عرفان علی کاٹھیا کے مطابق بارشوں اور انڈیا کی طرف سے پانی چھوڑے جانے کے باعث پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورت حال پیدا ہوئی جس سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے۔
ان کے مطابق متاثرہ 27 اضلاع میں نقصانات کے تعین کے لیے شفاف انداز میں سروے جاری ہے۔ سڑکوں کی بحالی کا عمل شروع ہو چکا ہے اور متاثرہ افراد اپنے علاقوں کو واپس جا رہے ہیں۔
دوسری جانب محکمہ موسمیات نے رواں ہفتے کے دوران بالائی علاقوں میں شدید بارشوں کا الرٹ جاری کیا ہے۔
جس کے مطابق چار سے چھ اکتوبر کے دوران راولپنڈی، اسلام آباد، سوات، ایبٹ آباد، مانسہرہ، مری، گلیات اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سمیت دیگر علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی، لینڈ سلائیڈنگ اور شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ ملک بھر میں 26 جون سے شروع ہونے والی مون سون بارشوں، انڈیا کی طرف سے چھوڑے گئے پانی اور سیلاب کے باعث شدید جانی و مالی نقصانات ہوئے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں سیلابی صورتحال کی وجہ سے جون سے یکم اکتوبر تک ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور اتنی ہی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔
سب سے زیادہ اموات خیبر پختونخوا میں پانچ سو نو رپورٹ ہوئیں، جب کہ پنجاب میں تین سو 22، سندھ میں 90، بلوچستان میں 38، آزاد کشمیر میں 38 اور گلگت بلتستان میں 31 اموات ہوئی ہیں۔






