الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ اب صوبے میں بلدیاتی انتخابات نئے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے تحت کرائے جائیں گے۔ اس نئے قانون کے نفاذ کے بعد پرانا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 ازخود منسوخ ہو گیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں کمیشن کے معزز اراکین، سیکرٹری اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد پر تفصیلی غور کیا گیا۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب اسمبلی نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 منظور کر لیا ہے اور گورنر پنجاب کی منظوری کے بعد یہ نافذ العمل ہو چکا ہے۔ نئے قانون کے نفاذ سے پرانا ایکٹ منسوخ ہو گیا ہے، لہٰذا 2022 کے ایکٹ کے تحت جاری حلقہ بندیوں سے متعلق نوٹیفکیشن کو واپس لینا ضروری تھا۔

مزید پڑھیں: گورنر پنجاب نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 پر دستخط کر دیے، پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کب ہوں گے؟

اجلاس میں الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا کہ دسمبر میں مجوزہ بلدیاتی انتخابات کا شیڈول واپس لیا جائے اور پنجاب حکومت کو نئے ایکٹ کے تحت حلقہ بندی رولز کی تیاری کے لیے 4 ہفتے کی مہلت دی جائے۔

اعلامیے کے مطابق الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ یہ مہلت آخری ہوگی اور اس میں مزید اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ اگر مقررہ مدت میں حلقہ بندی رولز مکمل نہ ہوئے تو معاملے کو سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ پنجاب حکومت کی درخواست پر کیا گیا ہے تاکہ نئے قانون کے مطابق حلقہ بندیوں کا عمل شفاف اور قانونی طور پر درست طریقے سے مکمل کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 منظور، بلدیاتی انتخابات التوا کا شکار کیوں ہیں؟

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ منسوخ شدہ قانون کے تحت کوئی بھی سرگرمی یا اقدام الیکشن ایکٹ 2017 کی سیکشن 219 کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔

واضح رہے کہ اس پیش رفت کے بعد پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہونے کا امکان ہے، تاہم کمیشن کا مؤقف ہے کہ نئے ایکٹ کے تحت شفاف اور آئینی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کرانا ہی اصل مقصد ہے۔