آرڈیننس کے مطابق کم عمری کی شادی کو باقاعدہ قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے اور اس حوالے سے سخت سزائیں بھی مقرر کی گئی ہیں۔

قانون کے تحت نکاح رجسٹرار اگر کم عمر شادی درج کرے تو اسے 1 سال قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا، کم عمر سے شادی کرنے پر 3 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

مزید سختی کرتے ہوئے کم عمری کی شادی کو زیادتی (ریپ) کے زمرے میں بھی شامل کر لیا گیا ہے، جس پر 7 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ مقرر کیا گیا ہے

مزید پڑھیں: پنجاب کے 69 فیصد افراد وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت سے مطمئن، سروے

حکام کے مطابق اس قانون کا مقصد بچوں، خصوصاً بچیوں کے حقوق کا تحفظ اور معاشرے میں کم عمری کی شادی کے رجحان کا خاتمہ ہے۔

آرڈیننس کی حتمی منظوری کے بعد یہ باقاعدہ قانون کی حیثیت اختیار کر جائے گا، جس سے پنجاب میں اس عمل کے خلاف سخت قانونی کارروائی ممکن ہو سکے گی۔