پنجاب میں رات گئے شروع ہونے والی ہڑتال دوپہر تک جاری رہی، جس کے باعث شہری شدید پریشانی کا شکار رہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ بند ہونے سے بس اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر مسافروں کا رش بڑھ گیا۔

دوپہر کے وقت صوبائی وزیرِ ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے ایکشن کمیٹی کے چیئرمین عصمت اللہ نیازی اور دیگر نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کیے۔ وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا تھا کہ فی الحال ٹریفک آرڈیننس کو معطل کر رہے ہیں، جرمانے بھی نہیں ہوں گے اور تمام مسائل کے حل کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

عصمت اللہ نیازی نے حکومتی یقین دہانی کے بعد ہڑتال معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کمرشل گاڑیوں کے چالان نہیں ہوں گے اور گاڑیاں تھانوں میں بند بھی نہیں کی جائیں گی۔

دوسری جانب پاکستان منی مزدا ایسوسی ایشن کے صدر شیر علی چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت آرڈیننس کی منسوخی کا نوٹیفکیشن جاری کرے، ورنہ ہڑتال جاری رہے گی۔