پنجاب میں رات گئے شروع ہونے والی ہڑتال دوپہر تک جاری رہی، جس کے باعث شہری شدید پریشانی کا شکار رہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ بند ہونے سے بس اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر مسافروں کا رش بڑھ گیا۔
دوپہر کے وقت صوبائی وزیرِ ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے ایکشن کمیٹی کے چیئرمین عصمت اللہ نیازی اور دیگر نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کیے۔ وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا تھا کہ فی الحال ٹریفک آرڈیننس کو معطل کر رہے ہیں، جرمانے بھی نہیں ہوں گے اور تمام مسائل کے حل کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
پنجاب میں ٹرانسپورٹرز نے پہیہ جام ہڑتال ختم کردی pic.twitter.com/KNRrHdx1Yv
— Geo News Urdu (@geonews_urdu) December 8, 2025
عصمت اللہ نیازی نے حکومتی یقین دہانی کے بعد ہڑتال معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کمرشل گاڑیوں کے چالان نہیں ہوں گے اور گاڑیاں تھانوں میں بند بھی نہیں کی جائیں گی۔
دوسری جانب پاکستان منی مزدا ایسوسی ایشن کے صدر شیر علی چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت آرڈیننس کی منسوخی کا نوٹیفکیشن جاری کرے، ورنہ ہڑتال جاری رہے گی۔







