انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سروے کا آغاز 24 ستمبر سے کیا گیا تھا اور اب تک مختلف اداروں کے تعاون سے نمایاں پیشرفت حاصل ہوئی ہے۔ سروے ٹیموں کو اس دوران مختلف دشواریوں کا سامنا بھی ہے، تاہم آخری متاثرہ خاندان کے سروے تک کام جاری رکھا جائے گا۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ 27 اضلاع کے 2855 مواضعات کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہے،جہاں کسانوں کے لئے 5 ارب روپے کی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک لاکھ میں سے31 فیصد پکے اور69 فیصد کچے گھروں کو نقصان پہنچا جب کہ 10 لاکھ59 ہزار ایکڑ سے زائد زرعی زمین سیلاب سے متاثر ہوئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 4 لاکھ ایکڑ چاول اور 35 ہزار ایکڑ گنے کی فصل تباہ ہوچکی ہے جب کہ 1900 سے زائد چھوٹے جانور ہلاک ہوئے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ 3 لاکھ73 ہزار میں سے ڈیڑھ لاکھ افراد کی ویریفکیشن مکمل ہوچکی ہے اور 75 ہزار متاثرین کے بینک اکاونٹس کھول دیئے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بینک آف پنجاب کے کیمپس 15 اضلاع میں قائم کئے جا رہے ہیں تاکہ متاثرین کو مالی امداد کی فراہمی میں آسانی ہو۔







