تفصیلات کے مطابق پنجاب بھر میں ایک لاکھ 26 ہزار سے زائد شہریوں کے چالان کیے گئے، جب کہ مجموعی طور پر 13 کروڑ 48 لاکھ روپے سے زائد جرمانے وصول کیے گئے۔ کارروائیوں کے دوران 25 ہزار 424 موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں مختلف تھانوں میں بند کی گئیں اور 4 ہزار 585 افراد کو سنگین خلاف ورزیوں پر حراست میں لیا گیا۔
راولپنڈی میں بھی ٹریفک پولیس ایکشن میں نظر آئی، جہاں صرف ایک روز میں 21 سرکاری گاڑیوں کے چالان کیے گئے۔ ڈی ایس پی ٹریفک کینٹ کی سرکاری جیپ سے کالے شیشے اتار کر 500 روپے جرمانہ عائد کیا گیا، جب کہ مختلف محکموں کی 600 سے زائد سرکاری گاڑیوں کو ای چالان کی عدم ادائیگی پر روک دیا گیا۔
خیال رہے کہ پنجاب حکومت نے نیا ٹریفک آرڈیننس نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت جرمانوں میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ تیز رفتار موٹر سائیکل چلانے پر 2 ہزار، کار پر 5 ہزار اور بڑی گاڑیوں پر اس سے زائد جرمانے ہوں گے۔
ان کے علاوہ سگنل توڑنے پر موٹر سائیکل سوار کے لیے 2 ہزار، رکشہ 3 ہزار، جب کہ کار کے لیے 5 ہزار روپے جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔ اوورلوڈنگ پر تھری ویلر کو 3 ہزار، بڑی گاڑی کو 10 ہزار اور ٹریلر کو 15 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔
نئے ٹریفک آرڈیننس کے مطابق دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں، جعلی یا ہیلی نمبر پلیٹس اور نان اسٹینڈرڈ شیشوں پر بھی بھاری سزائیں مقرر کر دی گئی ہیں۔ بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ گاڑی چلانے پر ایک لاکھ روپے جرمانہ اور جیل کی سزا ہوگی، جب کہ ون وے کی خلاف ورزی پر 6 ماہ قید یا 50 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔ کم عمر ڈرائیونگ میں والدین کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ ٹریفک چالان کا نظام مکمل طور پر الیکٹرانک کر دیا گیا ہے۔
ریسکیو رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں پنجاب بھر میں 1,438 ٹریفک حادثات پیش آئے جن میں 16 افراد جان کی بازی ہار گئے، جب کہ 1,652 زخمی ہوئے۔ ان واقعات میں 74 فیصد حادثات موٹر سائیکلوں سے متعلق تھے۔ صرف لاہور میں 271 حادثات رپورٹ ہوئے، جن میں 299 افراد متاثر ہوئے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب محمد وقاص نذیر کا کہنا ہے کہ نئے قوانین کے تحت صوبے بھر میں بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور کسی شہری یا سرکاری افسر کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ سی ٹی اوز کے مطابق ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتاریاں، چالان اور محکمانہ اقدامات بلا تفریق کیے جائیں گے۔







