کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز پراجیکٹ کی لانچنگ تقریب سے خطاب میں وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ بیماری ہونے پر علاج کی تکلیف برداشت کرنا پڑتی ہے، اس لیے حکومت پہلے ہی احتیاطی اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز کئی ماہ کی تربیت کے بعد فیلڈ میں انسانی خدمت کے لیے تیار ہیں۔ یہ پروگرام ہر گھر کا ہیلتھ پروفائل تیار کرے گا، بیماریوں کا اندازہ لگایا جائے گا اور ڈیجیٹل ٹیپ میں مکمل ریکارڈ رکھا جائے گا۔ اب حکومت خود گھروں تک پہنچ کر عوام کو سہولت فراہم کرے گی۔
مریم نواز نے بتایا کہ کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز بلڈ شوگر، تشخیصی ٹیسٹ اور انجیکشن وغیرہ بھی لگا سکیں گی۔ اس پروگرام میں 25 ہزار افراد کو ملازمت دی گئی ہے اور ہر فرد کو 50 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جا رہی ہے۔ کام کر کے دکھانے پر مزید تنخواہ میں اضافہ بھی کیا جائے گا۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ نوکری نہیں بلکہ ایک مشن ہے۔ پنجاب کی خواتین میدان عمل میں اپنا منفرد مقام پیدا کریں گی اور صوبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گی۔ کلینک آن ویل اور فیلڈ ہسپتال کے ذریعے تین کروڑ سے زائد افراد کا علاج معالجہ کیا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قائداعظم کا خواب نظام کی تبدیلی تھا، مگر پاکستان میں آج بھی انگریز کا مسلط کردہ نظام چل رہا ہے، حافظ نعیم الرحمان
وزیراعلیٰ پنجاب نے ستھرا پنجاب کی ٹیموں کی کارکردگی کو سراہا، جو گھر گھر جا کر کوڑا کرکٹ اٹھا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں عوام کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ حکومتِ پنجاب نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ کینسر اور امراض قلب کی ادویات مفت فراہم کی جا رہی ہیں اور سرگودھا، ساہیوال، مری میں کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹس قائم کیے گئے ہیں۔ جہلم میں کیتھ لیب اور جھنگ میں بھی جلد کیتھ لیب شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔







