تفصیلات کے مطابق جامعہ پنجاب کے فیصل آڈیٹوریم کے سامنے اسلامی جمعیت طلبہ کی جانب سے ایران میں امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والی تقریباً 150 طالبات کی یاد میں دعائیہ تقریب منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔
اسلامی جمعیت طلبہ کے مطابق اس موقع پر شہدا کے لیے اجتماعی دعا، اظہارِ یکجہتی اور بعد ازاں شرکاء کے لیے افطار کا اہتمام بھی کیا جانا تھا۔
تقریب میں شرکت کے لیے جمع ہونے والے طلبہ پُرامن طور پر آڈیٹوریم کے باہر جمع ہو رہے تھے اور پروگرام کے آغاز کا انتظار کر رہے تھے۔ اسی دوران پنجاب پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور آڈیٹوریم کے اطراف میں پوزیشن سنبھال لی۔
جب طلبہ نے دعائیہ تقریب میں شرکت کے لیے آڈیٹوریم کی جانب بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ اس دوران پولیس اور طلبہ کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے طلبہ کو منتشر کر دیا۔
پولیس نے کارروائی کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ کے متعدد کارکنان کو حراست میں بھی لے لیا، جب کہ کئی طلبہ کو موقع سے ہٹا دیا گیا۔
اسلامی جمعیت طلبہ کے رہنماؤں نے پولیس کی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ طلبہ پُرامن انداز میں شہدا کے لیے دعائیہ تقریب اور افطار کا اہتمام کرنا چاہتے تھے، تاہم انہیں ایسا کرنے سے روک دیا گیا۔ اسلامی جمعیت طلبہ نے گرفتار کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
واقعے کے بعد یونیورسٹی کے احاطے میں کشیدگی کی فضا برقرار رہی، جب کہ پولیس کی نفری بھی موقع پر موجود رہی اور انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔






