نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے مطابق سینٹرل پولیس آفس پشاور کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشنز کا حصہ تھی، جس کا مقصد عوام کی جان و مال کی حفاظت اور امن قائم رکھنا تھا۔
سی پی او پشاور نے بتایا کہ مشترکہ آپریشن کے دوران پولیس اہلکار مکمل طور پر محفوظ رہے اور کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
🚨 لکی مروت – تختی خیل: عوام کا دہشت گردوں کے خلاف تاریخی ڈٹ جانا!
— Al Muqatil (@AlMuqatil786) November 15, 2025
ضلع لکی مروت کے علاقے کوٹکہ شیخ لنڈک میں 25-30 خوارج ایک مدرسے میں گھس آئے تو اہلِ علاقہ نے بہادری کی مثال قائم کی !
🔥 عوام نے فوراً گھیراؤ کیا، فائرنگ کا تبادلہ ہوا، ماحول کشیدہ مگر حوصلہ بلند.
سیکیورٹی فورسز… https://t.co/rxB2q1KLcG pic.twitter.com/kc0AyVvZm7
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردوں کے خلاف مؤثر کارروائیوں میں عوام کا بھرپور تعاون جاری ہے، جو امن و امان کی بحالی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
سینٹرل پولیس آفس کے مطابق اس کارروائی کے ذریعے علاقے میں دہشتگردی کے امکانات کم کرنے اور مقامی آبادی کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔







