قابلِ افسوس واقعہ جناح ہسپتال روڈ لاہور پر اس وقت پیش آیا، جب پولیس اہلکار چند نوجوانوں کو روک کر کھڑے تھے۔ پاکستان میٹرز کے ایڈیٹر اظہر تھراج نے اہلکاروں سے ویڈیو بناتے ہوئے نوجوانوں کو روکنے کی وجہ پوچھی، جس پر پولیس نے مبینہ طور پر روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا اور انہیں موقع سے اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

ذرائع کے مطابق اظہر تھراج کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، جب کہ ان کی موجودہ لوکیشن یا صحت کے بارے میں بھی تاحال کوئی باضابطہ معلومات سامنے نہیں آ سکی۔

واقعے پر صحافی برادری کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے اور یہ مؤقف اپنایا جارہا ہے کہ صحافیوں کو مسلسل ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، اظہر تھراج کا اچانک غائب ہونا آزادیِ صحافت پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔

واضح رہے کہ پولیس حکام کی جانب سے واقعے پر کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا، جب کہ صحافتی تنظیموں نے فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے اس واقعے کی شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔