سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 49 ہزار میگاواٹ ہے، جب کہ موجودہ استعمال اس کا نصف سے بھی کم ہے، اس کے باوجود عوام کو بجلی میسر نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر تیل اور گیس سے بجلی پیدا کرنے میں مشکلات ہیں تو دیگر ذرائع سے باآسانی مطلوبہ بجلی حاصل کی جا سکتی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے سوال اٹھایا کہ کیا پیداواری صلاحیت میں اضافہ صرف آئی پی پیز کو نوازنے کے لیے کیا گیا تھا، جو کیپیسٹی چارجز کی مد میں بجلی پیدا کیے بغیر ہی ہزاروں ارب روپے وصول کر چکی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاور سیکٹر میں حکومتی نااہلی کی سزا عوام اور صنعت کار بھگت رہے ہیں، جبکہ اس کا فائدہ آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز) کو ہو رہا ہے۔