سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 49 ہزار میگاواٹ ہے، جب کہ موجودہ استعمال اس کا نصف سے بھی کم ہے، اس کے باوجود عوام کو بجلی میسر نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر تیل اور گیس سے بجلی پیدا کرنے میں مشکلات ہیں تو دیگر ذرائع سے باآسانی مطلوبہ بجلی حاصل کی جا سکتی ہے۔
پورا ملک بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ سے بری طرح متاثر ہے، بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 49 ہزار میگا واٹ ہے اور اس وقت استعمال نصف سے بھی کم ہے۔ مگر عوام کو بجلی میسر نہیں! اگر تیل و گیس سے بجلی پیدا کرنے میں مشکلات ہیں تو دیگر ذرائع سے بآسانی درکار بجلی مل سکتی ہے۔ کیا پیداواری… pic.twitter.com/zujqsXTjjD
— Naeem ur Rehman (@NaeemRehmanEngr) April 16, 2026
حافظ نعیم الرحمان نے سوال اٹھایا کہ کیا پیداواری صلاحیت میں اضافہ صرف آئی پی پیز کو نوازنے کے لیے کیا گیا تھا، جو کیپیسٹی چارجز کی مد میں بجلی پیدا کیے بغیر ہی ہزاروں ارب روپے وصول کر چکی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاور سیکٹر میں حکومتی نااہلی کی سزا عوام اور صنعت کار بھگت رہے ہیں، جبکہ اس کا فائدہ آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز) کو ہو رہا ہے۔






