پشاور میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے جاری تحریک صرف کسی ایک جماعت کی نہیں بلکہ 25 کروڑ پاکستانیوں، غریب اور متوسط طبقے، مہنگائی سے متاثرہ عوام اور مسائل سے دوچار لوگوں کی آواز ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نوجوانوں، تاجروں اور عوام کو ساتھ لے کر حقیقی عوامی مسائل کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ پشاور میں چند اضلاع سے آنے والے نوجوانوں کی بڑی تعداد نے دھرنے کو جلسہ عام کی شکل دے دی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ نوجوان ملک کے حقیقی مسائل پر آواز اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی ایک نظریاتی جماعت ہے اور اس کی جدوجہد ایک ایسے عادلانہ نظام کے قیام کے لیے ہے جس میں طاقت، دولت، سرمایہ اور بندوق کے ذریعے عوام کو کنٹرول نہ کیا جائے بلکہ تمام شہریوں کو برابر کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے مہنگے بل، ٹیکسوں اور دیگر مسائل نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ آج ایک متوسط طبقے کے گھرانے کو بھی یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ بچوں کی فیس ادا کرے، بجلی کا بل دے، علاج کرائے یا گھر کا کرایہ ادا کرے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ غریب طبقہ تو پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہے، جبکہ متوسط طبقہ بھی مسلسل مہنگائی کے باعث دباؤ میں آتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام سے پیٹرول، بجلی، موبائل فون، کپڑوں، کھانے پینے کی اشیا اور ادویات سمیت مختلف مدات میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود معیاری تعلیم، روزگار اور علاج کی مناسب سہولتیں میسر نہیں ہیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے حکمران طبقہ اپنی مراعات اور اخراجات کم کرے۔ حافظ نعیم الرحمان نے تجویز دی کہ کوئی بھی سرکاری عہدیدار، افسر یا حکومت میں شامل سیاسی شخصیت 1300 سی سی سے بڑی سرکاری گاڑی استعمال نہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ ذاتی گاڑی کوئی بھی استعمال کرے، تاہم سرکاری وسائل سے حاصل کی جانے والی گاڑیوں اور مراعات میں کمی لائی جانی چاہیے۔ ان کے بقول ملک میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کے پاس سائیکل تک نہیں، جبکہ بہت سے افراد موٹر سائیکل رکھنے کے باوجود پیٹرول ڈلوانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اگر حکومت لیوی ختم کرنے کے حوالے سے متبادل وسائل کی بات کرتی ہے تو متبادل موجود ہیں۔ حکمران طبقہ اپنی عیاشیاں کم کرے، بڑی سرکاری گاڑیوں، مفت پیٹرول اور مفت بجلی سمیت غیر ضروری مراعات کا خاتمہ کیا جائے۔

انہوں نے آئی پی پیز کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’آئی پی پی مافیا‘ عوام پر بوجھ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق عوام سے ایسی بجلی کی قیمت بھی وصول کی جاتی ہے جو پیدا ہی نہیں ہوتی، جبکہ توانائی اور فیول کے اخراجات الگ سے وصول کیے جاتے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ مختلف کمپنیوں اور اداروں کو ٹیکس اور امپورٹ ڈیوٹی میں دی جانے والی غیر ضروری چھوٹ کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے کرپشن اور سرکاری اخراجات کو کم کیا جائے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ موجودہ نظام میں ایک محدود اشرافیہ نے ملک کے وسائل پر قبضہ جما رکھا ہے، جبکہ کروڑوں عوام مہنگائی اور بنیادی ضروریات کے مسائل سے دوچار ہیں۔ ان کے بقول جاگیردار، وڈیرے، سرمایہ دار، الیکٹیبلز اور طاقتور طبقات مل کر ایک ایسا نظام چلا رہے ہیں جس میں عام آدمی کے لیے آگے بڑھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بنے 82 سال ہوچکے ہیں لیکن ملک میں اب بھی کئی جگہ نوآبادیاتی دور کی ذہنیت اور قوانین موجود ہیں۔ بیوروکریسی کو قوم کا خادم ہونا چاہیے، لیکن ایک طویل عرصے سے عوام کو حاکم بنانے کے بجائے انہیں کنٹرول کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان کسی ایک شخصیت، جماعت یا ادارے کا نہیں بلکہ عوام کا ملک ہے۔ یہ ان لوگوں کا پاکستان ہے جنہوں نے تحریک پاکستان میں قربانیاں دیں اور اس ملک کے لیے اپنا گھر بار اور دیگر چیزیں چھوڑ دیں۔

انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ ان کا وژن صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ عالمی ہونا چاہیے۔ اسلام ترقی اور ٹیکنالوجی کا مخالف نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کو انسانیت کی بھلائی، صحت، تعلیم، انجینئرنگ اور بھوک کے خاتمے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

امیر جماعت اسلامی نے سرمایہ دارانہ نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں امیر مزید امیر اور غریب مزید غریب ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور الگورتھمز کو بھی بعض طاقتور کمپنیاں اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہی ہیں، جسے دنیا کے بعض ماہرین ٹیکنو فیوڈلزم قرار دیتے ہیں۔

انہوں نے نوجوانوں کو منشیات اور مختلف مافیاز کے خلاف بھی بھرپور جدوجہد کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں نوجوان نسل کو مسائل، مایوسی، جرائم اور منشیات سے بچانے کے لیے ایک بڑی تحریک کی ضرورت ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ انہوں نے مختلف شہروں کے تاجروں سے ملاقاتیں کی ہیں اور تاجر برادری کی جانب سے جماعت اسلامی کی تحریک کی حمایت سامنے آ رہی ہے۔ پشاور کے تاجروں کے علاوہ ملک کے مختلف شہروں میں تاجر تنظیموں سے رابطے جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی، لاہور، راولپنڈی اور دیگر شہروں کے تاجروں سے بھی رابطے کیے جا رہے ہیں، جب کہ تمام تنظیموں اور طبقات سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ تنظیمی اختلافات سے بالاتر ہو کر عوامی مسائل کے حل کے لیے متحد ہوں۔

امیر جماعت اسلامی نے نوجوانوں کو ہدایت کی کہ ہڑتال کو مکمل طور پر کامیاب بنانے کے لیے ہر مارکیٹ، ہر دکان دار اور ہر تاجر سے رابطہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شہروں کے ساتھ ساتھ دیہات میں موجود دکان داروں اور تاجر تنظیموں کو بھی تحریک میں شامل کیا جائے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہڑتال کراچی سے خیبر اور کشمیر سے گوادر تک ملک گیر سطح پر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سمیت ملک کے تمام علاقوں سے عوام کو اس تحریک میں شامل ہو کر اظہارِ یکجہتی کرنا چاہیے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ہڑتال کے باوجود حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو جماعت اسلامی اگلے مرحلے میں ملک بھر سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرے گی۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ لانگ مارچ صرف ایک شہر یا علاقے تک محدود نہیں ہوگا بلکہ چترال، دیر، باجوڑ، وزیرستان، جنوبی اضلاع، کوہاٹ، ہنگو، لکی مروت، پشاور، صوابی، مردان اور ملک کے دیگر علاقوں سے قافلے روانہ ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے بھی عوام اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے اور راستے میں عوام کو تحریک کا حصہ بناتے ہوئے آگے بڑھا جائے گا۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ڈی چوک کی جانب جانے کا فیصلہ بھی بغیر تیاری کے نہیں کیا جائے گا، بلکہ ایک بڑی، منظم اور عوامی تحریک کے ذریعے ملک بھر کے لوگوں کو ساتھ ملایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ جدوجہد آسان نہیں ہوگی اور اس کے لیے محنت، قربانی اور مشکلات برداشت کرنا ہوں گی۔ نوجوانوں کو لوگوں سے رابطے بڑھانے، اپنے پیغام کو عام کرنے اور سوشل میڈیا کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی جس مسئلے کے لیے جدوجہد شروع کرتی ہے، اسے آسانی سے نہیں چھوڑتی۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ عوام تک اپنا پیغام پہنچائیں اور ملک بھر میں ایسی فضا پیدا کریں کہ پوری قوم اپنے حقوق کے لیے متحد ہو کر کھڑی ہو جائے۔