پاکستان آمد پر نور خان ایئربیس پر صدر آصف زرداری اور خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری نے ان کا استقبال کیا، جس کے بعد وہ ایوانِ صدر گئے جہاں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
صدر آصف علی زرداری نے ان کے اعزاز میں سرکاری ضیافت کا اہتمام بھی کیا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید
عاصم منیر، وفاقی وزرا، ارکانِ پارلیمنٹ اور سفارتی برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔
His Highness the Aga Khan has concluded a seven-day official visit to Pakistan at the invitation of the Government of the Islamic Republic of Pakistan. He travelled from Islamabad to the northern regions of Gilgit-Baltistan and Chitral, meeting the Ismaili community and senior… pic.twitter.com/vED3Dv3U9q
— Aga Khan Development Network (@akdn) May 27, 2026
پرنس رحیم آغا خان نے صدر آصف علی زرداری سے دوطرفہ ملاقات بھی کی، جس میں انہوں نے آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کی جانب سے پاکستان میں ترقیاتی اور انسانی ہمدردی کے منصوبوں میں
بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے ان کے اعزاز میں ناشتے کا اہتمام کیا اور امن، استحکام اور ترقی کے لیے ان کی خدمات کو سراہا، وزیراعظم نے مرحوم پرنس کریم آغا خان چہارم کی خدمات کے
اعتراف میں پاکستان پوسٹ کی جانب سے جاری کردہ یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی انہیں پیش کیا۔
22 مئی کو پرنس رحیم آغا خان گلگت بلتستان پہنچے جہاں گورنر گلگت بلتستان اور اعلیٰ سول و عسکری حکام نے ان کا استقبال کیا، 3 روزہ قیام کے دوران انہوں نے پاسو، گلگت، گاہکوچ بالا اور
تاؤس میں اسماعیلی برادری کے اجتماعات سے خطاب اور ملاقاتیں کیں۔
انہوں نے اتحاد، زندگی بھر تعلیم حاصل کرنے خصوصاً بچیوں کی تعلیم، پُرامن بقائے باہمی اور پیشہ ورانہ و سماجی زندگی میں اخلاقی اقدار کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ اسماعیلی عقیدہ توحید کے تصور پر قائم ہے، حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں اور صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رہنا انتہائی ضروری ہے۔
خیبر پختونخوا کے علاقے چترال میں پرنس رحیم آغا خان کا استقبال گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی اور دیگر اعلیٰ حکام نے کیا۔
گورنر اور وزیراعلیٰ سے ملاقاتوں کے دوران صوبے میں ترقیاتی تعاون اور باہمی اشتراک کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے پروک اور گرم چشمہ میں اسماعیلی برادری سے بھی ملاقاتیں کیں۔
دورے کے اختتام پر وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری اور اسماعیلی برادری کے رہنماؤں نے ایئرپورٹ پر انہیں الوداع کیا۔
یہ پرنس رحیم آغا خان کا شیعہ اسماعیلی مسلم کمیونٹی کے 50ویں امام کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ تھا، جس نے پاکستان اور اسماعیلی امامت کے درمیان دیرینہ اور مضبوط تعلقات کو مزید مستحکم کیا۔







