حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت نے ایل این جی کی مزید درآمد کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد گیس کی قیمتوں میں تقریباً 15 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے، مہنگی درآمدی گیس پر انحصار کرنے کے بجائے پاکستان کو فوری طور پر پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل کرنا چاہیے، کیونکہ ایران اپنی حدود میں پائپ لائن کا کام پہلے ہی مکمل کر چکا ہے، جبکہ پاکستان کی جانب سے منصوبہ برسوں سے التوا کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس منصوبے میں تاخیر کی وجہ امریکی پابندیوں کو قرار دیا جاتا تھا، لیکن اب جب ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بات ہو رہی ہے تو حکومت کے پاس تاخیر کا کوئی جواز باقی نہیں رہا، پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل ہونے سے ملک میں توانائی بحران پر قابو پانے اور گیس کی قیمتوں میں استحکام لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوام آج بھی ہر لیٹر پیٹرول پر تقریباً 118 روپے سے زائد ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوام سے بھاری لیوی وصول کر رہی ہے، جبکہ ماضی میں پیٹرول کی قیمت میں معمولی کمی کر کے اسے بڑا ریلیف قرار دیا گیا تھا، حالانکہ عوام کو حقیقی فائدہ نہیں پہنچایا گیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیٹرول کی قیمت کو کم کر کے 225 روپے فی لیٹر تک لایا جائے اور حکومت عوام پر مزید مالی بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکسوں میں کمی کرے، اکثر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ رات کے اوقات میں کیا جاتا ہے، جس سے عوام میں بے چینی پیدا ہوتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مہنگائی کی صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ ایک ہی شہر میں روٹی مختلف نرخوں پر فروخت ہو رہی ہے۔ کہیں روٹی 17 روپے میں دستیاب ہے تو کہیں 20 روپے یا اس سے بھی زیادہ میں فروخت کی جا رہی ہے، جو پرائس کنٹرول نظام کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک ہی شہر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مؤثر کنٹرول نہیں تو پھر حکومتی گورننس پر سوالات اٹھنا فطری ہیں۔
زرعی شعبے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب گندم پیدا کرنے والا سب سے بڑا صوبہ ہے، تاہم حکومت کسان دوست پالیسی دینے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کپاس کی کاشت میں تاریخی کمی واقع ہوئی ہے، حالانکہ یہی فصل ماضی میں پاکستان کے لیے قیمتی زرمبادلہ کا اہم ذریعہ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کو ان کی محنت کا مناسب معاوضہ نہیں مل رہا اور شوگر ملوں پر کسانوں کی ادائیگیاں روکنے کے الزامات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
تعلیم کے شعبے پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پنجاب میں ہزاروں سرکاری اسکول آؤٹ سورس کیے جا رہے ہیں، جبکہ ایک کروڑ سے زائد بچے اب بھی اسکولوں سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی اور جدید تعلیم عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے، جس کے باعث اعلیٰ تعلیم میں داخلوں کی شرح متاثر ہو رہی ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ہر بچے کو یکساں، معیاری اور سستی تعلیم فراہم کرے، نہ کہ صرف مختلف اسکیموں کا اعلان کرے۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے، حکومت کو تین دن کی مہلت دیتے ہیں؛ حافظ نعیم الرحمان
انہوں نے صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو حکومت کی اولین ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو بنیادی حقوق کی فراہمی کے بجائے نمائشی منصوبوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ ملک میں یکساں نظامِ تعلیم کیوں نافذ نہیں کیا جا سکا۔
پریس کانفرنس کے دوران حافظ نعیم الرحمان نے سرکاری اخراجات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قومی خزانے سے اربوں روپے کے اخراجات کیے جا رہے ہیں، جبکہ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں، عوام کے ٹیکس کا ہر روپیہ امانت ہے اور حکومت کو اس کے استعمال پر جوابدہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جمعہ کے روز جماعت اسلامی کی جانب سے ملک بھر میں پرامن احتجاج کیا جائے گا، جس میں عوام بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ موٹر سائیکل ریلیوں اور احتجاجی مظاہروں میں بھرپور شرکت کریں تاکہ حکومت پر عوامی دباؤ بڑھایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام اپنی آواز بلند نہیں کریں گے تو مہنگائی اور دیگر مسائل میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا۔
حافظ نعیم الرحمان نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ملک کو معاشی استحکام، بہتر گورننس، کسان دوست پالیسی، معیاری تعلیم، سستی توانائی اور عوامی ریلیف کی ضرورت ہے، اور حکومت کو فوری طور پر ایسی پالیسیاں اختیار کرنی چاہئیں جو عام شہری کی زندگی میں حقیقی آسانی پیدا کر سکیں۔







