سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ اس لیوی کا پٹرول کی اصل قیمت سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ یہ عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ جولائی سے اپریل تک پٹرولیم لیوی کی مد میں 1234 ارب روپے عوام سے بلا امتیاز وصول کیے گئے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 400 فیصد زیادہ ہیں۔
حکومت نے صرف جنگ کے 6 ہفتوں میں پٹرولیم لیوی کی مد میں 180 ارب روپے عوام سے وصول کیے ہیں جس کا پٹرول کی اصل قیمت سے کوئی تعلق نہیں ہے، 10 ماہ میں یعنی جولائی سے اپریل تک 1234 ارب روپے کا ٹیکس پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے بلا استثناء وصول کیا گیا، یہ رقم گزشتہ سال کے اسی عرصے کے… pic.twitter.com/kR7M4xfUeY
— Naeem ur Rehman (@NaeemRehmanEngr) April 19, 2026
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ اس ٹیکس کا بوجھ صرف ٹیکس دہندگان تک محدود نہیں بلکہ اس میں طلبہ بھی شامل ہیں جو ابھی ملازمت نہیں کرتے، جبکہ کم آمدنی والے موٹر سائیکل سوار بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔امیر اور غریب سب پر یکساں بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے پٹرولیم لیوی کو ظلم کی بدترین شکل قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسے فوری طور پر ختم کیا جائے اور پٹرول کی قیمت 250 روپے فی لیٹر مقرر کی جائے۔







