سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ اس لیوی کا پٹرول کی اصل قیمت سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ یہ عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ جولائی سے اپریل تک پٹرولیم لیوی کی مد میں 1234 ارب روپے عوام سے بلا امتیاز وصول کیے گئے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 400 فیصد زیادہ ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ اس ٹیکس کا بوجھ صرف ٹیکس دہندگان تک محدود نہیں بلکہ اس میں طلبہ بھی شامل ہیں جو ابھی ملازمت نہیں کرتے، جبکہ کم آمدنی والے موٹر سائیکل سوار بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔امیر اور غریب سب پر یکساں بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے پٹرولیم لیوی کو ظلم کی بدترین شکل قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسے فوری طور پر ختم کیا جائے اور پٹرول کی قیمت 250 روپے فی لیٹر مقرر کی جائے۔