پی آئی اے کی نجکاری کو ملکی ہوا بازی کی تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، خصوصاً ان ہزاروں خاندانوں کے لیے جن کا روزگار براہِ راست اس ادارے سے وابستہ ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پی آئی اے تقریباً 2.8 ارب ڈالر کے خسارے کا شکار رہی ہے، جس کے باعث ادارہ گزشتہ کئی برسوں سے مالی مشکلات کا سامنا کر رہا تھا۔
نجکاری کے عمل کے تحت عارف حبیب گروپ کی قیادت میں ایک کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی بولی دے کر پی آئی اے کے 75 فیصد حصص حاصل کیے ہیں۔ کنسورشیم پہلے ہی عندیہ دے چکا ہے کہ وہ مستقبل میں باقی 25 فیصد حصص بھی خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس کے بعد قومی ایئرلائن مکمل طور پر نجی ملکیت میں جا سکتی ہے۔
ماہرینِ معیشت کے مطابق دنیا بھر میں بڑی ایئرلائنز کی نجکاری کے بعد اداروں میں ڈاؤن سائزنگ یا رائٹ سائزنگ کا عمل عام طور پر دیکھنے میں آتا ہے۔ ان کے مطابق پی آئی اے میں فی طیارہ ملازمین کی تعداد بین الاقوامی معیار کے مقابلے میں زیادہ ہے، جس سے آپریشنل اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔
اسی تناظر میں ملازمین کے حلقوں میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ آیا نئی انتظامیہ ادارے کی کارکردگی اور منافع میں اضافے کے لیے افرادی قوت میں کمی کا راستہ اختیار کرے گی یا نہیں۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے پاس تجربہ کار پائلٹس، انجینئرز اور گراؤنڈ اسٹاف کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، جو کسی بھی توسیعی منصوبے میں اہم اثاثہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر نئی انتظامیہ بیڑے میں اضافہ کرتی ہے اور بین الاقوامی آپریشنز کو وسعت دیتی ہے تو موجودہ افرادی قوت کو برقرار رکھنے یا مزید مواقع پیدا ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔
تاہم نجکاری کا بنیادی مقصد ادارے کو منافع بخش بنانا ہوتا ہے اور نجی شعبہ عموماً وہی فیصلے کرتا ہے جو کاروباری مفادات اور مالی استحکام کے لیے موزوں سمجھے جاتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے تاحال ملازمین کے روزگار کے تحفظ سے متعلق کوئی واضح اور حتمی ضمانت سامنے نہیں آئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انتظامی کنٹرول کی منتقلی اور نئی انتظامیہ کی پالیسیوں کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ پی آئی اے کے ملازمین کا مستقبل کیا ہوگا۔
اب تمام نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا نجکاری کے بعد قومی ایئرلائن مالی طور پر مستحکم ہو کر ترقی کی نئی منازل طے کرے گی یا پھر ادارے کے ملازمین کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔






