پی ڈی ایم اے کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ محکمہ موسمیات کے تازہ تجزیے کے مطابق دریائے کابل میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا امکان ہے، جب کہ کوہاٹ توئی، کرم اور گومل ندیوں سمیت ان سے منسلک معاون ندی نالوں میں بھی سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

ایڈوائزری کے مطابق اس دوران پشاور، مردان اور نوشہرہ میں شہری سیلاب کا بھی خدشہ ہے۔ اتھارٹی نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ جانی نقصان، انفراسٹرکچر، فصلوں اور مویشیوں کو ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں۔

پی ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ حساس اور کمزور مقامات کی نشاندہی کی جائے، خطرے سے دوچار آبادی کے لیے حفاظتی منصوبہ بندی کی جائے، الرٹ کی سطح بلند رکھی جائے اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کر کے فوری ردعمل کو یقینی بنایا جائے۔

ریسکیو 1122 اور سول ڈیفنس کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہائی الرٹ رہیں اور ممکنہ خطرے والے علاقوں میں عملے اور ضروری آلات کی دستیابی یقینی بنائیں۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ دریائے کابل اور اس سے منسلک ندی نالوں کے کنارے رہنے والے افراد کو ممکنہ سیلاب اور پانی کے بہاؤ میں اضافے سے آگاہ رکھا جائے اور نشیبی علاقوں سے بروقت انخلا کے لیے تیار رہیں۔ ساتھ ہی انخلا کے مراکز میں خوراک، ادویات اور پناہ گاہوں کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

حکام کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ دریائے کابل اور ملحقہ واٹر چینلز کے قریب نشیبی اور خطرناک علاقوں میں گاڑیوں کی نقل و حرکت محدود کی جائے۔

دوسری جانب محکمہ موسمیات نے چترال، دیر، سوات، کالام، شانگلہ، بونیر، کوہستان، مالاکنڈ، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، بالاکوٹ اور ہری پور سمیت مختلف علاقوں میں بارشوں، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ پہاڑوں پر برفباری کی پیش گوئی کی ہے۔

اسی طرح مہمند، خیبر، اورکزئی، صوابی، چارسدہ، کوہاٹ، ہنگو، کرک، بنوں، لکی مروت، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور وزیرستان میں 6 سے 9 اپریل تک وقفے وقفے سے بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق 25 مارچ سے اب تک صوبے میں بارشوں سے متعلق مختلف واقعات میں کم از کم 45 افراد جاں بحق، جب کہ 105 زخمی ہو چکے ہیں۔