پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کو تین سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں پی ٹی آئی کی کال پر احتجاج جاری ہے۔

بدھ کے روز پی ٹی آئی کارکنان نے صدر میں نجی مال کے قریب جمع کر احتجاج کیا جس کے نتیجے میں پریس کلب، گورنر ہاؤس اور میٹروپول کے اطراف ٹریفک کی روانی شدید متاثر رہی۔

پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی کارکنان کو آگے بڑھنے سے روکنے پر صورتِ حال کشیدہ ہو گئی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا جب کہ مظاہرین کی جانب سے بھی پولیس پر پتھراؤ کیا گیا۔

پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں اور کارکنان کی پکڑ دھکڑ کے بعد مظاہرین منتشر ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے عمران خان کی گرفتاری کو تین سال مکمل ہونے پر 5 اگست کو ملک بھر میں احتجاج کی کال دی تھی۔ اسی سلسلے میں پشاور میں جلسہ جب کہ لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، ملتان اور کوئٹہ سمیت دیگر شہروں میں ریلیاں بھی نکالی گئیں۔

سابق وزیرِاعظم عمران خان کو سیشن کورٹ کی جانب سے توشہ خانہ کیس میں 3 سال قید کی سزا سنائے جانے کے فوراً بعد 5 اگست 2023 کو لاہور میں واقع ان کی رہائش گاہ زمان پارک سے گرفتار کیا گیا تھا۔

گرفتاری کے فوراً بعد عمران خان کو اٹک جیل منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ تقریباً ڈیڑھ مہینہ قید رہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات اور سکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں 26 ستمبر 2023 کی رات راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔