نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ آرٹیکل میں پیش کی گئی باتیں بے بنیاد ہیں اور بشریٰ بی بی پر لگائے گئے الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بشریٰ بی بی بہادری کے ساتھ جیل میں ہیں اور عمران خان کی اہلیہ ہونے کے باوجود ان کے خلاف لگائے گئے جھوٹے الزامات انہیں توڑ نہیں سکتے۔
بشری بی بی سے متعلق آرٹیکل پر پی ٹی آئی کا دی اکانومسٹ کے خلاف قانونی کاروائی کا اعلان،یہ آرٹیکل شر انگیز اور جھوٹ پر مبنی ہے،اس آرٹیکل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرینگے،عمران خان اور بشری بی بی سے ملاقات کے بعد برطانوی جریدے کےخلاف قانونی کاروائی کرینگے،بیرسٹر گوہر https://t.co/FPQiIerpjw
— Fahim Akhtar Malik (@writetofahim) November 15, 2025
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس آرٹیکل کا مقصد نہ صرف بشریٰ بی بی بلکہ بانی پی ٹی آئی کی بھی کردار کشی کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے آرٹیکل اکثر اسپانسرڈ ہوتے ہیں اور پی ٹی آئی ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرے گی۔ وقت ثابت کرے گا کہ یہ دعوے بھی غلط بیانی پر مبنی اور بے بنیاد ہیں۔
یاد رہے کہ دی اکانومسٹ نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں عمران خان کی ذاتی زندگی اور سیاسی معاملات میں بشریٰ بی بی کے مبینہ کردار پر روشنی ڈالی گئی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ بشریٰ بی بی عمران خان کے فیصلوں میں اثر انداز ہوتی تھیں اور کچھ غیر معمولی رسومات کا بھی ذکر کیا گیا۔







