نجی نشریاتی ادارے ڈان نیوز کے مطابق، یہ فیصلہ پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجا کے دورۂ کراچی کے دوران کیا گیا۔
اس موقع پر انہوں نے پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کی، جن میں پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ، پارلیمانی لیڈر شبیر قریشی اور جمال صدیقی شامل تھے۔
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ نومبر میں کراچی میں ایک بڑی عوامی ریلی منعقد کی جائے گی، جس کے بعد حیدرآباد اور دیگر بڑے شہروں میں بھی عوامی اجتماعات کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ ملک گیر عوامی رابطہ مہم کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے متحد اور متحرک ہے۔
سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر، راجہ ناصر عباس کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اور سہیل آفریدی کو خیبر پختونخوا کا وزیرِاعلیٰ نامزد کیا گیا ہے۔ ان اقدامات کو انہوں نے پی ٹی آئی میں سیاسی تجدید کی لہرقرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے پرعزم ہیں۔ سچ اور انصاف کی جیت ہوگی۔ عمران خان کے خلاف بنائے گئے تمام جھوٹے مقدمات عدالتوں میں غلط ثابت ہو رہے ہیں۔ تاخیری حربوں کے باوجود یہ بے بنیاد مقدمات جلد ختم ہو جائیں گے۔
بیرسٹر سلمان اکرم راجا نے عمران خان کا پیغام دہراتے ہوئے کہا کہ سرپرستِ اعلیٰ عمران خان نے قوم کو ہدایت دی ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھیں، جیت ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کو ظلم و ناانصافی کے خلاف عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے ریلیوں کے ذریعے عوام سے براہِ راست رابطہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
سندھ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے گزشتہ 17 برسوں میں صوبے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی سے لے کر اندرونِ سندھ تک تمام شہر بدحالی کا شکار ہیں، قانون کی عملداری نہ ہونے اور بدامنی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کی بدعنوانی نے سندھ کے عوامی وسائل کو لوٹ لیا ہے، مگر اب عوام جاگ چکے ہیں۔ جہاں بھی ہم گئے، عمران خان کے لیے زبردست عوامی حمایت دیکھنے میں آئی۔ سندھ کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور ایک ایماندار، بہادر اور مخلص قیادت عمران خان کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔
خیال رہے کہ عمران خان، جو اگست 2023 سے قید میں ہیں، اس وقت اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں ، جب کہ مئی 9 کے واقعات سے متعلق انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت دیگر مقدمات کا سامنا بھی کر رہے ہیں۔
گزشتہ ہفتے پارٹی نے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان نے پیشکش کی ہے کہ اگر انہیں پیرول پر رہا کیا جائے تو وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی سمیت دیگر اہم قومی امور کے حل میں کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔
اسی ماہ کے اوائل میں پارٹی نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل سے کسی نامعلوم مقام پر منتقل کیا جا سکتا ہے تاکہ ان کی اپنے اہلِ خانہ اور قانونی ٹیم سے ملاقاتیں محدود کی جا سکیں۔







