پاکستان میٹرز کے نامہ نگار فہد علی خان کی خصوصی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی نے عمران خان کی مبینہ ناجائز قید اور 2024 کے عام انتخابات میں مبینہ طور پر دھاندلی کے خلاف 8 فروری کو ملک گیر شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی کال دے رکھی تھی،لاہور سمیت پنجاب میں کے چھوٹے بڑے شہروں میں ہلکا پھلکا احتجاج نظر آیا جبکہ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور آزاد کشمیر کاروبار زندگی بند رہا۔
لاہور شہر کی مصروف ترین شاہراہ جیل روڈ پر ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں رہی۔ اسی طرح کینال روڈ، فیروزپور روڈ اور ملتان روڈ سمیت دیگر اہم شاہراؤں پر بھی گاڑیوں کی آمد و رفت میں کوئی غیر معمولی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔
شہر کی بڑی مارکیٹس اچھرہ مارکیٹ، انارکلی بازار اور لبرٹی مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں۔ دکانداروں کا کہنا تھا کہ کسی قسم کی زبردستی شٹر ڈاؤن نظر نہیں آئی اور عوام نے خود فیصلہ کیا کہ وہ ہڑتال کا حصہ نہیں بنیں گے۔
پاکستان میٹرز کے نامہ نگار نے کہا ہے کہ جیل روڈ پر گاڑیوں کے شورومز اتوار کے باعث بند نظر آئے، تاہم یہ معمول کا حصہ ہے، جب کہ شورومز کے عقب میں واقع عابد مارکیٹ میں بھی وہی صورتحال رہی جو عام اتوار کو ہوتی ہے، یعنی کچھ دکانیں کھلی اور کچھ بند۔
فہد علی خان کا کہنا ہے کہ لاہور میں ان دنوں 25 سال بعد بسنت کا تہوار منایا جا رہا ہے، جس کے باعث شہری بڑی تعداد میں تفریحی سرگرمیوں میں مصروف دکھائی دیے۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ وہ کسی سیاسی احتجاج یا شٹر ڈاؤن کا حصہ بننے کے بجائے بسنت کی خوشیوں سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔
لاہور کے داخلی و خارجی راستے بھی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر کھلے رہے۔ شہری بلا رکاوٹ لاہور سے باہر سفر کرتے اور دیگر شہروں سے لاہور آتے جاتے رہے۔
ملک کے دیگر شہروں کی بات کی جائے تو کہیں بھی پہیہ جام یا شٹر ڈاؤن ہڑتال کے اثرات نمایاں نہیں ہوئے۔ عوام معمول کے مطابق سفر کرتے رہے اور اتوار کے روز جو مارکیٹس عموماً کھلی ہوتی ہیں، وہ آج بھی کھلی رہیں، جب کہ وہ بازار جو عام طور پر اتوار کو بند ہوتے ہیں، آج بھی بند رہے۔
لاہور میں بسنت کے لیے آنے والے شہریوں نے ’پاکستان میٹرز‘ کی خصوصی رپورٹ میں بتایا کہ بسنت ایک تہوار ہے اسے کسی سیاسی احتجاج سے جوڑنا درست نہیں ہے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں بسنت کی اجازت دے کر دل جیت لیے ہیں۔
آزاد ڈیجیٹل کے نمائندے وسیم ہاشمی کی رپورٹ کے مطابق راولپنڈی میں بھی پی ٹی آئی کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا۔ راجہ بازار سمیت شہر بھر میں دکانیں اور کاروباری مراکز کھلے رہے اور ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں رہی۔ شہریوں نے روزمرہ زندگی کو ترجیح دی اور کسی احتجاج میں شرکت نہیں کی۔
خیال رہے کہ مجموعی طور پر عوامی ردِعمل نے واضح کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی کی شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کی کال کو پنجاب میں عوامی پذیرائی حاصل نہ ہو سکی اور ملک بھر میں معمولاتِ زندگی بغیر کسی تعطل کے جاری رہے۔







