ذرائع کے مطابق اس منصوبے کا اعلان رمضان سے قبل خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی جانب سے کیا گیا تھا، جس کا مقصد جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے کارکنوں کو منظم کرنا تھا۔ منصوبے کے تحت رضاکاروں کی رجسٹریشن، حلف برداری اور ایک منظم فورس کی تشکیل شامل تھی۔
تاہم اس تجویز کو پارٹی کے اندر سے ہی شدید تحفظات کا سامنا کرنا پڑا۔ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اس اقدام کو غیر آئینی اور قانونی پیچیدگیوں کا باعث قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی "فورس" کی تشکیل سے غلط پیغام جا سکتا ہے اور یہ اقدام عسکریت پسندی کے زمرے میں بھی آ سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے تفصیلی مشاورت کے بعد اس منصوبے کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے بجائے ایک وسیع اور جامع سیاسی تحریک شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے، جو تمام کارکنوں اور حامیوں کے لیے کھلی ہوگی۔
نئی حکمت عملی کے تحت کسی قسم کی حلف برداری یا فورس جیسی ساخت سے گریز کیا جائے گا، جبکہ تحریک کو مکمل طور پر آئینی، جمہوری اور پُرامن دائرے میں رکھا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق پارٹی نے واضح کیا ہے کہ آئندہ کسی بھی احتجاج یا سڑکوں پر نکلنے کے فیصلے مربوط مشاورت کے تحت کیے جائیں گے۔ اس حوالے سے اپوزیشن اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا گیا ہے تاکہ مشترکہ حکمت عملی اپنائی جا سکے۔
اہم پیش رفت یہ ہے کہ سڑکوں پر کسی بھی تحریک یا مارچ کے آغاز اور اس کے وقت سے متعلق فیصلے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کریں گے، جبکہ صوبائی سطح پر انفرادی فیصلوں سے گریز کیا جائے گا۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی کے تلخ تجربات، خصوصاً 9 مئی کے واقعات اور حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران پیش آنے والے تصادم کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بار محتاط اور تدریجی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔
پی ٹی آئی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ آئندہ کسی بھی احتجاجی تحریک کو مکمل طور پر پُرامن رکھا جائے گا اور کسی بھی قسم کے تصادم یا غیر قانونی سرگرمی سے اجتناب کیا جائے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق "ریلیز فورس" کے تصور سے پیچھے ہٹنا پی ٹی آئی کے اندر اعتدال پسند قیادت کے مؤقف کی جیت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ سخت گیر عناصر کی حکمت عملی کو وقتی طور پر پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔







