گورنر آفس سے جاری کردہ بیان کے مطابق انہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی جدوجہد کو تاریخ کا روشن باب قرار دیا۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کا وژن، ان کی جمہوری جدوجہد اور 1973ء کا متفقہ آئین پیپلز پارٹی کی سیاسی میراث کی بنیاد ہیں، جس نے ملک کی آئینی سمت کا تعین کیا اور وفاق کو مضبوط بنایا۔

انہوں نے کہا کہ شہید بینظیر بھٹو نے اپنی جرات، بصیرت اور لازوال قربانیوں کے ذریعے اسی میراث کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔

گورنر نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جب ملک میں آمریت مسلط ہوئی، جب شہری آزادیوں پر قدغنیں لگیں اور جب عوام کے بنیادی حقوق سلب کیے گئے تو پیپلز پارٹی سب سے آگے کھڑی رہی۔ ایم آر ڈی، اے آر ڈی، چارٹر آف ڈیموکریسی، اٹھارویں ترمیم اور نیشنل ایکشن پلان، ہر دور میں پارٹی نے جمہوری ارتقا میں بنیادی کردار ادا کیا۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پیپلز پارٹی مزدور، کسان، خواتین، اقلیتوں اور پسے ہوئے طبقات کی حقیقی نمائندہ جماعت ہے، جہاں سماجی انصاف، معاشی مساوات اور بااختیار بنانے کے اصول ہمیشہ مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کا ترقی پسند، جمہوری اور امن پر مبنی وژن پاکستان کو نئے دور کی طرف لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نوجوان قیادت نے پارٹی میں نئی توانائی، فکری سمت اور سیاسی رجحان پیدا کیا ہے جو روشن مستقبل کی علامت ہے۔

گورنر خیبرپختونخوا نے یومِ تاسیس کو تجدیدِ عہد کا دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج دوبارہ یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم جمہوریت، وفاق، سماجی انصاف، برداشت، اقلیتوں کے حقوق اور خواتین کے بااختیار بنانے کے سفر کو مزید مضبوط کریں گے۔

انہوں نے کارکنان اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اتحاد برقرار رکھیں، عوامی خدمت کو اپنا مقصد بنائیں اور ایک روادار، ترقی پسند اور جمہوری پاکستان کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی پیپلز پارٹی کا مشن، یہی شہدا کی امانت اور یہی بلاول بھٹو زرداری کا وژن ہے۔