ذرائع کے مطابق تینوں جماعتوں کے درمیان ہونے والے اتفاقِ رائے کے بعد گلگت بلتستان اسمبلی میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخابات بلامقابلہ ہونے کا امکان ہے، جب کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب پر بھی اتفاق رائے پیدا ہونے کے باعث اس عہدے کے لیے بھی بلامقابلہ انتخاب متوقع ہے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی اور استحکام پاکستان پارٹی نے باضابطہ طور پر گلگت بلتستان میں مشترکہ حکومت سازی کے لیے مل کر چلنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اس حوالے سے آئی پی پی کے سیکرٹری جنرل میاں خالد محمود نے پیپلز پارٹی کے وفد سے ملاقات کی۔ پیپلز پارٹی کے وفد میں نیئر بخاری، قمرزمان کائرہ اور جی بی کے صوبائی صدسر امجد حسین شامل تھے

ملاقات میں آئی پی پی گلگت بلتستان کے صدر آئی پی پی جی بی حاجی گلبر خان، راجہ جلال مقبول اور ایم پی اے محمد علی موجود تھے۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں دونوں جماعتوں نے حکومت سازی اور آئندہ سیاسی حکمت عملی سے متعلق اپنی تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کی مرکزی قیادت جو بھی فیصلہ کرے گی، اس پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا۔

ادھر سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے نومنتخب اراکین کا حلف آج نہیں ہو سکے گا کیونکہ اسمبلی اجلاس بلانے کے لیے تاحال گورنر کی باضابطہ منظوری موصول نہیں ہوئی۔