نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے جو کہا، اس کی مکمل توثیق کرتا ہوں، تاہم وزیر داخلہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیانات میں فرق ہے۔ وزیر داخلہ کے بیان کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے، جبکہ محسن نقوی تین سے ساڑھے تین سال سے اس سسٹم سے وابستہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہائبرڈ نظام کی کامیابی میں ہی ہماری نجات ہے۔ مختلف ادوار میں حکومتوں میں رہا ہوں، میں مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کیا نواز شریف نے ماضی کی حکومتوں میں ڈلیور نہیں کیا؟

خواجہ آصف نے کہا کہ میں اداروں کو نہیں، بلکہ اشخاص کو الزام ضرور دوں گا، چاہے وہ سیاسی ہوں یا اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ سے تعلق رکھتے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ہمارے درمیان دراڑیں موجود ہیں، تاہم میں نہیں سمجھتا کہ یہ سسٹم کے جانے کی کوئی نشانیاں ہیں۔ اس وقت موجودہ سیٹ اپ کے جانے کی کوئی علامت نظر نہیں آتی۔

اس سے قبل سیالکوٹ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ آزاد کشمیر کا الیکشن مسلم لیگ (ن) جیتے گی اور ہم کشمیر میں تمام خلفشار ختم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی محبت پاکستان کے ساتھ ہے۔ کشمیر کاز کو تقویت ملنی چاہیے، اسے کمزور نہیں ہونے دیں گے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے جتنے بھی بیانات دیے ہیں، آج بھی ان پر قائم ہوں۔

ن لیگی رہنما نے کہا کہ آج کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی بنا کر خون خرابہ کیا جا رہا ہے۔ ایسی ایسی کہانیاں اور تصاویر پیش کی جاتی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ 60 سال سے بیرون ملک بیٹھے لوگ کہتے ہیں کہ مہاجرین کی نشستیں ختم کر دو، جبکہ میں نے کہا تھا کہ مہاجرین کی نشستیں ختم نہیں ہوں گی۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ایک دوسرے پر الزام دینے کے بجائے خود بھی ذمہ داری قبول کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت اور چار پانچ بڑے اسٹیک ہولڈرز کو ایک ساتھ بیٹھنے کی ضرورت ہے، جبکہ سب سے پہلی ذمہ داری سیاسی حکومت کی ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر علیم خان موجودہ سیٹ اپ سے مطمئن نہیں تو وہ استعفیٰ دے دیں۔