بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات کی، جس میں پارلیمانی امور، قانون سازی اور ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سیکریٹری جنرل اسد قیصر، مصطفیٰ نواز کھوکھر، عامر ڈوگر، عادل بازئی اور اخوندزادہ حسین سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن رہنماؤں سے پارلیمانی کمیٹیوں میں واپس آکر فعال کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ اپوزیشن رہنماؤں نے معاملے پر پی ٹی آئی چیئرمین سے مشاورت کے بعد فیصلہ کرنے کا کہا۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پارلیمان کو فعال کرنے کے لیے قائمہ کمیٹیوں کو بھی فعال کرنا ہوگا۔ ان کی خواہش ہے کہ اپوزیشن جماعتیں کمیٹیوں میں واپس آئیں اور اپنے بائیکاٹ کے فیصلے پر نظرِ ثانی کریں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں نے قانون سازی سے متعلق معاملات پر باہمی رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی اصلاحات اور انتخابات میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عوام کا فیصلہ ہوگا اور پیپلز پارٹی عوام کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ زور زبردستی سے کوئی چیز نہ مانی ہے اور نہ مانیں گے، جبکہ نئے صوبوں کے معاملے پر اتفاقِ رائے کے لیے سیاسی جماعتوں کو کوشش کرنی چاہیے۔
بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا کہ ان ہاؤس تبدیلی ان کی توجہ کا مرکز نہیں اور وہ پنجاب کے خلاف کسی سازش کا سوچ بھی نہیں سکتے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر حکومت سپریم کورٹ کے بجائے خود ان کا علاج کراتی تو زیادہ بہتر ہوتا۔ انہوں نے عمران خان کی اسپتال منتقلی کو خوش آئند قرار دیا۔
انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ انتخابات پر اعتراضات اٹھیں، اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر انتخابی عمل کو بہتر بنانا ہوگا۔ انتخابات کے دوران کسی سیاسی کارکن کی لاش نہیں اٹھنی چاہیے۔
آزاد کشمیر کے انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایک چھوٹے خطے میں انتخابات پر سوالات اٹھے، تاہم اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ موجود کمیونیکیشن گیپ کو دور کیا گیا ہے۔
28ویں آئینی ترمیم سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انہیں اس حوالے سے کوئی علم نہیں اور اب تک اس ترمیم کے لیے کوئی تجویز سامنے نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اتحادیوں کے درمیان اتفاقِ رائے کا عمل جاری ہے۔







